Categories: تراشے

ماں ہر حال میں بچوں کی سائباں ہے

’’اف! پھر وہی مصیبت، دو وقت کے لیے بنایا تھا، سارا سالن دن ہی میں ختم ہوگیا۔ رات کے لیے پھر بنانا پڑے گا۔ کس نے ختم کیا سارا سالن؟‘‘ میں چلائی۔
’’ہم نے۔۔۔‘‘امی نے نرمی سے کہا۔
’’افوہ امی ! پتا نہیں آپ کو اتنی بھوک کیوں لگتی ہے۔ میں نے دو وقت کا سالن اکٹھے اس لیے بنایا تھا کہ پیپرز کی تیاری کرنی ہے۔ آپ نے ایک ہی ٹائم میں ختم کردیا۔‘‘
میں نے جھنجھلاتے ہوئے امی کو جواب دیا۔
’’خالہ سے کہا بھی تھا کہ امی کو سمجھائیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر خاموش کرادیا کہ امی کو کھانے دیا کرو۔ میری پریشانی کا کسی کو بھی احساس نہیں۔۔۔‘‘
میں بڑبڑاتے ہوئے رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
’’صدف تیار ہو؟‘‘ ابو نے پوچھا۔
’’جی ابو۔۔۔‘‘
’’مجھے آج جلدی آفس پہنچنا ہے۔ میں بس میں بٹھادیتا ہوں تم اپنی ماں کے ساتھ سینٹر چلی جاؤ۔‘‘ ابو بولے۔
’’کیا۔۔۔امی کے ساتھ؟‘‘ میں نے حیرت سے ابو سے پوچھا۔
’’ہاں بیٹا!‘‘
’’اور واپسی بھی انہی کے ساتھ۔۔۔‘‘ مین قدرے جل کر کہا تھا۔
ابو اب قدرے غصے میں بولے تھے۔ ’’ہاں بھئی کہانا کہ ماں کے ساتھ جاؤگی اور انہی کے ساتھ واپس آؤگی۔‘‘
میری تو سٹی گم ہوگئی کہ اگر امی کو راستے میں دورہ پڑگیا تو سہیلیوں کے سامنے میری بہت بے عزتی ہوگی۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، امی کو ذہنی طور پر بیمار ہی پایا۔ آٹھ بہن بھائی میں، میں سب سے بڑی تھے۔ اسی لیے کم عمری میں ہی مجھ پر گھر کی ذمہ داریاں آن پڑیں۔ کھانا پکانا، بہن بھائی کی دیکھ بھال، گھر کے دوسرے کام کاج کے ساتھ امی کو وقت پر دوا کھلانا میری ہی ذمہ داری تھی۔ کیوں کہ وہ صرف میرے ہاتھ سے ہی دوا کھاتی تھیں، جسے میں بخوبی انجام دے رہی تھی لیکن ٹین ایج می آتے آتے ذہن میں مختلف سوالات جنم لینے لگے۔
جب امی بیمار ہیں تو مزید بہن بھائی کیوں پیدا کردیے؟ (کیوں کہ میری ایک بہن اور تین بھائی امی کی شدید ذہنی علالت کے دوران پیدا ہوئے تھے، جنہیں ہم بڑی چار بہنوں نے سنبھالا۔)
امی کو زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے؟
پھر ابو کی یہ نصیحت کہ یہ عورت میری بیوی ہے، میں اس سے نرم گرم لہجے میں بات کرسکتا ہوں لیکن یہ تمہاری ماں ہے۔ اس کا ادب و احترام تم سب پر لازم ہے۔
مگر ابو کا یہ لیکچر ماں اور بیوی کے فرق کو واضح نہ کرسکا اور یہی سوال ذہن میں گردش کرتا رہا کہ جب ماں کا احترام ضروری ہے تو بیوی کا کیوں نہیں؟
پھر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ دوھیاں والوں نے ابو کو دوسری شادی کے لیے اکسانا شروع کردیا۔ بچیاں بڑی ہو رہی ہیں۔ ان کی شادی کیسے ہوگی؟ کون خیال رکھے گا؟ داماد کی خاطر داری کیسے ہوگی؟ ماں تو ان کی پاگل ہے۔ دوسری شادی کرلو، ورنہ بچیوں کا مستقبل برباد ہوجائے گا۔
پہلے ہی ذہن میں اٹھتے ہوئے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ ملنے کے باعث میں عجیب کنفیوژن کا شکار تھی۔ اس نئی صورت حال نے میری پریشانی کو اور بڑھادیا۔
کبھی سوچتی کہ امی کو ان کے میکے نانا نانی کے پاس (انڈیا) بھجوادیا جائے، پھر یہ خیال آتا ہے کہ اس طرح ہمارا تعلق ننھیال سے ٹوٹ جائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ امی کو ایدھی ہومز میں داخل کروا دیا جائے (اللہ معاف فرمائے)۔
بہن بھائی چھوٹے تھے، اس لیے ان سے بھی کبھی کوئی بات شیئر نہ کی اور سہیلیوں سے اپنے پرسنل مسائل پر بات کرنا مجھے گوارا نہ تھا۔ کوئی ایسا نہ تھا جسے اپنی ذہنی الجھنیں بتا کر ذہن ہلکا کرتی۔ نتیجتاً میری الجھن بڑھتی گئی اور ساتھ ہی ایک انجانے خوف نے مجھے گھیر لیا۔
خاندان والے جب امی کو پاگل یا پگلی کہتے تو بہت بے عزتی محسوس ہوتی۔ میں زیادہ تر خاموش ہی رہتی لیکن میری چھوٹی بہنیں امی کے حق میں بولتیں تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ امی کے ساتھ میرا بھی سائبان ہیں۔
لیکن ساتھ ساتھ یہ احساس محرومی بھی شدت سے بڑھتا رہا کہ اور ماؤں کی طرح ہماری ماں ہمارا سائبان نہیں۔
اس محرومی اور انجانے خوف کے ساتھ میں بابل آنگن سے پیادیس سدھاری۔ تجربہ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ جب ماں کے رتبے پر فائز ہوئی تو اپنے ذہن میں اٹھنے والے تمام سوالوں کا جواب خود معلوم ہوگیا۔
اب جبکہ میرے بچے حدودِ بلوغت میں داخل ہورہے ہیں، مجھے ان کی فکر لگی رہتی ہے۔ ساتھ ہی شدت سے احساس ندامت بھی محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ناسمجھی میں امی کو بہت تکلیف پہنچائی۔ یہ میری کم عقلی تھی، ورنہ میری ماں تو حالت بیماری میں بھی ہمارا سائبان تھی۔
میٹرک اور انٹر کے امتحان میں میرے ساتھ امتحانی مرکز جانا۔ یہاں تک کہ میری سہیلیوں اور ان کی ماؤں کو کبھی پتا نہیں چلا کہ میری امی کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں۔
ایک مرتبہ ابو کی غیرموجودگی مٰن ان کے جاننے والے گھر آئے (حالاں کہ ابو نے واضح طور پر انہیں چھٹی کے دن آنے کو کہا تھا)۔ میں نے بے وقوفی مین انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھادیا اور بات چیت کرنے لگی۔ امی نے ڈرائنگ روم میں آکر کس کے مجھے تین چار طمانچے لگائے۔ اس وقت ان کا غصہ انتہائی عروج پر تھا (اور ذہنی حالت بھی کچھ زیادہ خراب تھی)، یہاں تک کہ وہ آدمی ذرا دیر اور ٹھہر جاتا تو یقیناً اسے بھی مار بیٹھتیں۔ شام کو ابو گھر آئے تو میں نے تمام واقعہ ان کے گوش گزار کیا اور یہ گمان ہوا کہ وہ امی پہ گرم ہوں گے، مگر اس کے برعکس ابو نے بہت نرمی سے مجھے سمجھایا۔
’’بیٹا! تمہاری ماں کا یہ طرز عمل بالکل درست ہے، میں نے اس شخص کو واضح طور پر دن اور وقت بتادیا تھا۔ وہ میری غیرموجودگی مین کس نیت سے آیا، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے، گھر میں میرے علاوہ مرد کوئی اور ہے نہیں، میں بھی مغرب کے بعد آتا ہوں، یہ تو خدا کا شکر ہے کہ تمہاری ماں اس حالت میں بھی چوکس ہے۔ وہ حالت بیماری میں بھی اپنے بچوں اور گھر کی نگہبان ہے۔‘‘
اس وقت مجھے ابو کی باتیں زیادہ سمجھ نہیں آئیں مگر اب سوچتی ہوں تو اپنی نادانی پر رونا آتا ہے۔ انہوں نے پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ مجھے فوقیت دی۔ امتحانات کے دوران جب کھانے پینے کا ہوش نہیں رہتا تھا، اپنے ہاتھ سے نوالے بنا بنا کر مجھے کھانا کھلاتیں۔
میری شادی ہونے تک امی ہی میری کنگھی چوٹی کرتی تھیں۔ کبھی مین نے اپنے بال خود نہیں سنوارے۔ یہاں تک کہ میری بہنیں میرا مذاق اڑاتیں کہ سسرال جاکر بھی امی آپ کے بال سنواریں گی۔
لوڈشیڈنگ کے دوران ہمیں گرمی اور مچھر سے محفوظ رکھنے کے لیے رات بھر ہاتھ کا پنکھا جھلتیں، یہ ممتا کا اظہار ہی تو تھا۔
امی بیمار تھیں، جس طرح اور لوگ بیمار ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ انہیں جسمانی نہیں ذہنی بیماری تھی، یہ کوئی عیب نہیں لیکن لوگوں نے اسے عیب بنادیا۔ یہ بات سمجھنے میں مجھے ایک طویل عرصہ لگا۔
بس ایک پشیمانی ہے، میری اوٹ پٹانگ سوچوں نے مجھے امی سے خوف زدہ کردیا جس سے ایک خلیج ہمارے درمیان حائل ہوگئی۔ جب ہی میں ان کی محبتوں اور شفقتوں کو سمجھ نہ پائی۔
اب ہم آٹھ میں سے چھ بہن بھائی شادی شدہ ہیں۔ میرے اور ان کے سسرال میں امی جو عزت ملی، اس کی وجہ سے وہ انجانا خوف بھی رفع ہوگیا، جس نے مجھے ایک طویل عرصے تک گھیرے رکھا۔
امی ذہن طور پر اب بہت بہتر ہیں لیکن جسمانی طور پر بیمار رہنے لگی ہیں۔ میں بھی اپنی گھریلو زندگی میں اتنی الجھ گئی ہوں کہ امی کے پاس جانا کم ہی ہوتا ہے۔ مگر ہر دم رب سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتی ہوں، یہ دعا لبوں پر رہتی ہے کہ خدا میرے سائبان کو سلامت رکھے۔
میری بہنیں امی کا خیال رکھتی ہیں اور سب سے زیادہ خوشی مجھے اس بات کی ہے کہ خدا نے انہیں نیک سیرت بہر عطا فرمائی، جنہوں نے نہ صرف ان کی تکریم و توقیر میں اضافہ کیا بلکہ ایک چھوٹے بچے کی طرح وہ ان کا خیال رکھتی ہیں۔ شادی کے بعد ہم بہنوں کو یہ فکر تھی کہ امی کا خیال کون رکھے گا، لیکن میری بھاوجوں نے یہ ثابت کردیا کہ بہو بھی بیٹی سے کم نہیں، جس طرح وہ میرے والدین کے لیے سکھ کا باعث ہیں، میری دعا کہ رب تعالیٰ انہیں بھی اپنی اولاد سے وہ سکھ عطا فرمائے۔
میری استدعا ہے والدین سے اور ان سے جڑے رشتوں سے محبت کریں، انہیں کبھی بوجھ نہ سمجھیں، بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو سمجھ میں نہیں آتیں، یا ان کی حکمت بعد میں کھلتی ہے، سو صبر کیجیے، اللہ پر توکل کیجیے، اس سے اپنے لیے، اپنے والدین اور اہل خانہ کے لیے بھلائی مانگتی رہیے۔ ان شاء اللہ بہت کچھ بظاہر بگڑا ہوا، بہت جلد سنور جائے گا۔

بقلم صدف جاوید
بشکریہ خواتین کا اسلام میگزین۔ نمبر676

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

2 days ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

2 days ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

4 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

4 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago