شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مشرق وسطی کے بحرانوں کے خاتمے کے لیے طاقت کی زبان اور عسکری حملوں کو غیرمفید اور قرون وسطی کی منطق یاد کی۔
سنی آن لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان نے پچیس مارچ دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں بروسیلز واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: بلجیم کے دارالحکومت میں پیش آنے والے واقعات اور حملوں سے مسلمانوں سمیت پوری دنیا کی اقوام متاثر ہوئیں۔ اس سے قبل پیرس میں ایسے واقعات پیش آئے تھے اور معلوم نہیں مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔
مسلمانوں کی انتہاپسندی کی مخالفت واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا: مسلمان جہاں بھی ہوں، وہ انتہاپسندی کے مخالف ہیں اور ہمیشہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے عسکری حملوں کی نقصان دہی پر زور دیتے ہوئے کہا: جس طرح پہلے بھی کہا گیا تھا جنگ اور لڑائی موجودہ دنیا میں کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ عسکری یلغار اور حملے کی منطق قرون وسطوی ہے۔ مشرق وسطی میں ایسی پالیسیوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا؛ ان ملکوں کی انقلابی تحریکوں کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں اور زورِ بازو سے ان کا کچلنا مشکل ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: امریکا سمیت دنیا کی تمام طاقتیں جو یہ سمجھتی ہیں عسکری حملوں ہی سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیاجاسکتاہے، سخت غلطی پر ہیں۔ عوام کی انصاف طلبی اور حریت پسندی کو بزور بازو سے نہیں دبایا جاسکتا۔ اس غلط پالیسی سے دہشت گردی کو مزید فروغ ملتاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سوال اٹھایا: امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان اور عراق پر حملہ کرکے کیا حاصل کیا؟ ان ملکوں کے امن مزید تباہ ہوا، عوام کی دولت اور انفراسٹیچکر بربادی سے دوچار ہوئے۔
انہوں نے شام سے روس کے جزوی انخلا کو سمجھدارانہ اقدام یاد کرتے ہوئے کہا: شام سے روسی انخلا اس ملک کی سمجھداری کی علامت ہے۔ اس سے پہلے روس نے شام پر اپنی فوج اتارکر غلط قدم اٹھایا تھا، اب روس نے اس عمل سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
شام، عراق اور یمن کے بحرانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: شام، عراق اور یمن کے عوام کو چاہیے ساتھ بیٹھ کر باہمی مشورت ، قومی حکومتیں تشکیل دینے اور مذاکرات سے اپنے مسائل پر قابو پائیں۔ عالمی طاقتیں مداخلت کے بجائے مذاکرات اور مصالحتی عمل کی حمایت کریں۔
مولانا نے کہا: تمام ممالک کے عوام اور حکام یہ بات بھول نہ جائیں کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے، جنگ سے مزید فساد، بدامنی اور تباہی پھیل جاتی ہے۔ معصوم لوگوں کا خون بہہ جاتاہے اور کشت وخون کا بازار گرم ہوجاتاہے، لہذا سب کو مذاکرات اور پرامن راستوں کا سہارا لے کر سب کے حقوق کا خیال رکھیں۔
تقوا سب سے بہترین توشہ ہے
اپنے بیان کے ایک حصے میں تقوا کی اہمیت و ضرورت واضح کرتے ہوئے صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: تقوا سب سے اچھا توشہ اور زاد راہ ہے۔ اسی سے نجات مل سکتی ہے۔ سب کچھ ختم ہوجاتاہے، صرف تقوا ہی بہترین توشہ ہے۔ ہم سب مسافر ہیں اور اللہ تعالی کی طرف جائیں گے، ہمارے سامنے جنت بھی ہے اور جہنم بھی۔ لہذا اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
خطاب کے آخر میں زاہدانی نمازیوں کے جمع میں شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور، شیخ محمدعلی امینی (صدر سلطان العلما، بندرلنگہ) اور خراسان سے تعلق رکھنے والے فضلائے دارالعلوم زاہدان کی آمد پر مولانا عبدالحمید نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…