وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ چونکہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، اس لیے حکومت کے لیے عافیہ صدیقی کو واپس لانا ممکن نہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے عافیہ صدیقی کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے عدالت میں رپورٹ پیش کی۔
راجہ خالد محمود نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا، لیکن پاکستان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باعث موجودہ حالات میں ان کی وطن واپسی ممکن نہیں۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قانونی معاونت بھی فراہم کی گئی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے یہ موقف سامنے آنے کے بعد ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور الحق قریشی نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی اور طریقہ تجویز کریں۔
کیس کی سماعت آئندہ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت، عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومت کو کوششیں تیز کرنے اور اہلخانہ کی ان سے ملاقات کے انتظامات کی ہدایت کرے۔
درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ وزارت خارجہ، عافیہ صدیقی کے اہلخانہ کو ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے وقتاً فوقتاً آگاہ کرے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…