افغانستان میں وزارت دفاع اور ایک طالبان مخالف قبائلی رہنما پر خود کش حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
ہفتہ کو مشرقی صوبےکنڑ میں موٹر سائیکل سوار ایک خود کش حملہ آور نے قبائلی رہنما خان جان کو نشانہ بنایا۔
صوبائی پولیس چیف عبدالحبیب سید خیلی کے مطابق، حملے میں جان اور دس دوسرے شہری ہلاک ہو ئے۔
طالبان کے سخت مخالف جان عسکریت پسندوں کے خلاف مقامی سطح پرلڑ رہے تھے۔
عبد الحبیب کا کہنا ہے کہ حملے میں 40 سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے۔
ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن مقامی حکام طالبان پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، آج ہی کابل میں وزارت دفاع کے قریب خود کش بم دھماکے میں دو فوجیوں سمیت12 افراد ہلاک ہوئے۔
زورد ار دھماکے کی گونج شہر کے بیشتر علاقوں میں سنی گئی۔
حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے وزارت کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ بند کر دی۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ایک ای میل میں کابل بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…