Categories: عالم اسلام

مضایا میں بھوک سے مزید 16 افراد جاں بحق

فلاحی ادارے میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے مضایا میں اقوامِ متحدہ کا امدادی قافلے پہنچنے کے بعد بھی کم سے کم 16 افراد بھوک کے باعث جاں بحق ہو گئے ہیں۔

امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ مزید 33 افراد ایسے ہیں جن کی حالت خطرے میں ہے۔
ایم ایس ایف کی کارروائیوں سے متعلق ڈائریکٹر برِس دی لا وینے کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نا قابلِ قبول ہے۔ لوگوں کو ہفتوں پہلے وہاں سے منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
ایم ایس ایف کے مطابق گذشتہ برس اس قصبے میں فاقہ کشی کے باعث 30 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
جنوری کے اوائل میں اس وقت دواؤں اور خوراک کے دو ہنگامی امدادی قافلے مضایا روانہ کیےگئے جب یہ علم ہوا کہ 40 ہزار لوگ انتہائی ہولناک حالت میں ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جو شام کے تنازع پر جنیوا میں مذاکرات ختم ہونے کو ہیں۔
شامی حزبِ اختلاف کے بڑے گروہ سنیچر کو جنیوا پہنچنے والے ہیں۔ انھوں نے آغاز میں امن مذاکرات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان محصور قصبوں کے لیے امداد کی فراہمی ان کے بڑے مطالبات میں سے ایک تھی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے کم سے کم 15 مقامات پر کم سے کم چار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ یہ علاقے حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں دونوں ہی کے محاصرے میں ہیں۔
مضایا دمشق کے شمال مغرب میں 25 کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ اس کا چھ ماہ سے حکومتی فورسز اور ان کے اتحادی حزب اللہ تحریک نے محاصرہ کر رکھا ہے۔
انسانی حقوق کے تنظیموں نے سینکڑوں افراد کو فوری نکالنے اور طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ مضایا میں لوگ مسلسل مر رہے ہیں کیونکہ حکومتی فورسز بیمار لوگوں کب بھی باہر نہیں جانے دی رہیں اور نہ ہی طبی امداد اور خوراک کو اندر جانے دیا جا رہا ہے۔
ایم ایس کے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے کہ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں اور بیمار لوگ اب بھی وہاں ہیں جبکہ انھیں ہفتوں پہلے وہاں سے نکل جانا چاہیے تھا۔‘
تنظیم کے مطابق حالیہ 16 ہلاکتیں ایم ایس ایف کے ساتھ کام کرنے والے طبی کارکنوں نے بتائی ہیں اور وہاں کوئی ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہے۔
اس سے پہلے ایم ایس ایف نے بتایا تھا کہ یکم دسمبر سے جنوری کے آغاز کم سے کم 30 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
تاہم حزب اللہ نے ان ہلاکتوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ باغی رہنما لوگوں کو علاقے سے باہر نہیں آنے دے رہے۔

بی بی سی اردو

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

4 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago