Categories: عالم اسلام

جامعہ حفصہ کو جانے والی سڑکوں پر رینجرز تعینات

اسلام آباد کی انتظامیہ نے سنیچر کو خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کے قرب وجوار میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی ایک بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ حفصہ کی طرف جانے والی گلیوں کو کنکریٹ کے بلاک لگا کر آمدورفت کو محدود کردیا گیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس اسلام آباد رضوان گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے حکم پر اُٹھایا گیا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ سیکٹر جی سیون تھری اور ٹو میں پولیس اور رینجرز کا عارضی ناکہ لگایا گیا ہے جس پر ڈیڑھ سو پولیس اور ریجرز اہلکار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوں گے۔
ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ اس عارضی ناکے کا مقصد علاقے میں رہنے والے اور آنے جانے والے افراد سے متعلق معلومات اکھٹا کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کا محاصرہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی کسی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
رضوان گوندل کا کہنا تھا کہ اس عارضی ناکے کو ختم کرنے کا فیصلہ اعلیٰ حکام ہی کریں گے۔
اس علاقے کے مکینوں کی زیادہ تر تعداد سرکاری ملازمین کی ہے اور اس علاقے میں زیادہ تر چھوٹے گھر ہیں جہاں پر زیادہ تر نچلے گریڈ کے اہلکار رہائش پذیر ہیں۔
اس دینی مدرسے کے معاملات کی نگرانی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسام کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ گذشتہ برس اس مدرسے کی طالبات نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اُن کی حمایت کی گئی تھی۔
خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو چاہنے والے اُنھیں پاکستان میں دولت اسلامیہ کا رہنما سمجھتے ہیں۔
مولانا عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسلام سے متعلق اس تنظیم کے فلسفے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اُن کی تشدد پسند کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتے۔
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف مقدمات درج ہونے کے باوجود اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔

بی بی سی اردو

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago