اسرائیل دھرتی کا بوجھ ہے جب تک وہ باقی رہے گا نہ دہشت گردی ختم ہوگی نہ دنیا میں امن قائم ہوگا۔
کم و بیش پوری دنیا اور بالخصوص مغربی دنیا دہرے معیار، دو عملی اور منافقت پر عامل ہے۔ اگر غزہ کا محاصرہ ہم نے با عزت طریقے سے ختم کرا لیا ہوتا تو مصر میں نہ فرعونوں کی حکومت واپس آتی نہ سیریا اور یمن عراق و افغانستان کی طرح تباہ و بر باد ہوتے۔ مسلمانوں نے غزہ کو تنہا چھوڑ دیا تو قدرت نے سیریا اور یمن کو بھی غزہ کو تنہا چھوڑ دینے والوں ہی کے ہاتھوں نمونہء عبرت بنا دیا۔ ایران، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور قطر اگر آج بھی ایک ہی خیمہء اتحاد میں داخل ہو جائیں تو اسلام کو بد نام کرنے والی طاقتوں اور انکی تزویری مدد کرنے والی قوتوں کے سارے کس بل آج ہی نکل جائیں۔ لیکن مسلم ممالک اس کے بجائے مسلکی و مذہبی افتراق کے شکار اور اسرائیل کشی کے بجائے برادر کشی میں مبتلا ہیں۔ مل بیٹھ کو باہمی مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش ہمیں کسی فریق کی جانب سے نظر نہیں آتی۔ امت واحدہ کے ایک حزب اللہی خیمے کے اندر ہونے کے بجائے مسلم دنیا ایران، سعودی عرب اور ترکی کے تین خیموں میں تقسیم صہیونی مقتدرہ کی معاون بنی اپنے پیروں پر آپ کلہاڑیاں چلانے میں مصروف ہے۔ حق و باطل کی جنگ میں یہ تینوں بیک وقت حق پر نہیں ہو سکتے۔ ہمارا دشمن مشترک ہے اور وہ صرف مسلمانوں کا نہیں اسلام دین فطرت کا دشمن ہے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی مسئلہ خواہ اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی گوشے سے ہو، عالم اسلام کی مشترکہ قوت کے متحدہ استعمال کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ اور یہ قوت اس وقت تک مشترکہ نہیں کہلا سکتی جب تک کہ سعودی عرب ایران ترکی قطر اور متحدہ عرب امارات ایک ساتھ ہو کر بنیان مرصوص نہ بن جائیں۔ اور جب تک ایسا نہ ہوگا نہ غزہ کا نو سال سے جاری محاصرہ ختم ہوگا نہ فلسطین آزاد ہوگا نہ صہیونی مقتدرہ کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا جا سکے گا۔ ایران، ترکی اور سعودی عرب کے حامی گروہ اگر سمجھتے ہیں کہ وہ الگ الگ رہتے ہوئے اسلام کے دشمنوں امریکہ اسرائیل برطانیہ، فرانس اور روس وغیرہ کی مدد سے یمن وسیریا اورغزہ و فلسطین کے مسائل حل کر لیں گے تو، وہ بنی آدم کے ازلی دشمن اور عدوئے مبین ابلیس کے پیدا کردہ واہمے کے شکار ہیں۔ گزشتہ دنوں جرمنی اور اسی ہفتے کناڈا نے شامی پناہ گزینوں کے سلسلے میں جو رویہ اپنایا ہے وہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور بالخصوص مسلمانوں کو اپنے مسلکی دام اور مذہبی جال میں پھنسائے رکھنے والے مسلم ملکوں کے لیے بجائے خود ایک عبرت ہے۔
کناڈا کے وزیر اعظم نے منتخب ہونے کے بعد پہلا کام جو کیا وہ شام پر کناڈا کے فضائی حملے روکنے کا حکم تھا۔ 11دسمبر 2015کو وزیر اعظم کناڈا شامی پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بہ نفس نفیس بندر گاہ پہنچے جہاں 163شامی پناہ گزینوں کو لے کر آنے والا جہاز اسی روز لنگر انداز ہوا تھا۔ اس موقع پر 500 بچوں اور بڑوں کے ایک گروپ نے وہی تاریخی نشید ۔طلع ا لبدر علینا۔۔۔ پڑھا جو نبی کریم ﷺ کی مدینہ آمد کے موقع پر مدینے کی بچیوں نے پڑھا تھا۔ welcome to canadaکے نام سے کناڈائی سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے اور کناڈا کے تمام اخبارات نے سرخیاں لگائی ہیں کہ ۔۔۔تم لوگ اب ہمارا خاندان ہو۔۔ اور ۔۔اپنے گھر میں خوش آمدید۔۔! اس کی اہمیت یہ ہے کہ امریکہ میں ایک صدارتی امیدوار، جیتنے کی صورت میں، امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پرقدغن لگانے کا اعلان کر رہا ہے اور برطانیہ نے شامی مہاجرین کے یورپ میں داخلے کو روکنے کے لیے فرانس کی حکومت سے 12ملین پونڈ کا ایک معاہدہ کیا ہے اور برطانیہ کے بڑے بڑے اخبارات کناڈا کے بر عکس مسلم پناہ گزینوں کو ۔کاکروچ۔ اور۔غیر قانونی مہاجر۔ لکھ رہے ہیں اور برطانوی وزیر اعظم نے اُنہیں ۔ریوڑ۔ کہا ہے! برطانیہ اور فرانس میںجو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ صہیونی مقتدرہ کے رُکن ِ رَکین ہیں مسلم دشمنی اور اسلامو فوبیا میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ کناڈا یورپ کو انسانیت کا درس دے رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ قرآن چودہ سو سال قبل ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ ۔تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤگے اور ایمان لانے والوں سے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤگے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ُان کے اَندر عبادت گزار عالم اَور تارِک ُا لدُنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرورِ نفس نہیں ہے (المائدہ 82)
عالم نقوی
بصیرت فیچرس
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…