Yemen's exiled President Abd-Rabbu Mansour Hadi (C) walks at Aden airport upon his arrival from Saudi Arabia in this November 17, 2015 photo provided by the Yemeni Presidency. Hadi returned to the southern port city of Aden on Tuesday to rally forces loyal to him in the country's civil war and oversee a campaign to retake the city of Taiz, a presidency official said. REUTERS/Yemen's Presidency/Handout via Reuters ATTENTION EDITORS - THIS PICTURE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. REUTERS IS UNABLE TO INDEPENDENTLY VERIFY THE AUTHENTICITY, CONTENT, LOCATION OR DATE OF THIS IMAGE. EDITORIAL USE ONLY. NOT FOR SALE FOR MARKETING OR ADVERTISING CAMPAIGNS. NO RESALES. NO ARCHIVE. THIS PICTURE IS DISTRIBUTED EXACTLY AS RECEIVED BY REUTERS, AS A SERVICE TO CLIENTS
یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کو 15 دسمبر سے سات روز کے لیے جنگ بندی کے لیے کہ دیا ہے۔اسی روز اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
یمنی صدر منصور ہادی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کو سوموار کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھیں مطلع کیا ہے کہ”انھوں نے اتحاد کی قیادت کو سات روز کے لیے جنگ بندی سے متعلق اپنے ارادے سے آگاہ کردیا ہے۔یہ عارضی جنگ بندی 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہے گی”۔
انھوں نے کہا کہ ”یہ مشاورتی اجلاس کے ساتھ ہی ہوگی اور حوثیوں کی جانب سے وعدے کے بعد خود کار طریقے سے اس کی تجدید ہوجائے گی”۔یمنی صدر نے یہ خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی بھیجا ہے اور اس میں مزید کہا ہے کہ” آپ اقوام متحدہ کے ایلچی کو آگاہ کردیں گے کہ وہ حوثیوں سے جنگ بندی کے احترام کو یقینی بنائیں اور وہ مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ اتحادی فورسز سیز فائر کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی کارروائی نہ کریں۔
انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ”جنگ بندی ہماری خواہش پر ہورہی ہے تاکہ ملک میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مشاورتی عمل کو کامیاب کیا جاسکے اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جا سکے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنیوا میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ 15 دسمبر کو امن مذاکرات سے قبل حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوجائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ”یمنی حکومت اور باغی گروپوں سمیت ہر کسی نے عارضی جنگ بندی کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے”۔البتہ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…