شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں یک روزہ طلبا سیمینار کاشاندار انعقاد

شعبۂ اردو جامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے زیر اہتمام ’’ اقبال شخصیت اورفکروفن‘‘ کے موضوع پر ’’طلبا سیمینار‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بی ۔اے سال اول ، دوم اور سوم کے طلبہ وطالبات نے مقالے پیش کئے۔ سیف الرحمن نے ’’اقبال کی شاعری میں طنزکا عنصر‘‘ ، ہما فرحین نے ’’اقبال کی حب الوطنی ‘‘، شاہ نواز احمد نے ’’اقبال سوانح اور شخصیت‘‘، ثمرین نے ’’اقبال کا تصور تعلیم‘‘، تسنیم عابدنے’’ اقبال کا پیغامِ حرکت وانقلاب‘‘، قیصرجہاں نے’’ اقبال کی نظم گوئی ‘‘ اور بشارت کریم نے ’’کلام اقبال کی عصری معنویت‘‘ کے موضوع پرمقالے پیش کئے۔
مقالات پڑھے جانے کے بعد سوالات وجوابات کاہنگامہ خیزسلسلہ شروع ہوا ، شرکائے بحث میں تسنیم عابد، محمد اکرم، اسد اللہ، صبا ایوب،رضیہ سلطانہ، عبدالواحد اور عقیل اظہر کے نام قابل ذکر ہیں۔ بعد میںان مقالوں پر اساتذہ نے اظہار خیال کیا۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پروفیسر وہاج الدین علوی صاحب نے کئی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ’’ اقبال نے پاکستان کا کوئی نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ اقبال بنیادی طور پر عظمت آدم کے پیغامبر تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ ادب مذہب کی شاخ نہیں ہے‘‘۔ طلبا سیمینار کے کنوینر پروفیسر شہزاد انجم نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد کے ساتھ ساتھ ان نکات کی جانب اشارے کئے جو عموما بڑے سیمیناروں سے مخصوص سمجھے جاتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ مستقبل کی تعمیر انہیں خطوط پر ہوتی ہے جو اس سیمینار میںطے کئے گئے ہیں۔اس سیمینار کا مقصد طلبا کے علمی وادبی ذوق وشوق کی آبیاری ہے۔
پروفیسر کوثر مظہری صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ اقبال کی شاعری کی فکرو فسلفہ کا کینوس بڑا وسیع ہے اوران کی پوری شاعری کا منبع قرآن ہے۔‘‘ ڈاکٹرسہیل احمد فاروقی نے شرکا کی ہمت افزائی کرتے ہوئے کہاکہ’’ جامعہ کی یہ خوبی ہے کہ طلبا کی کوشش وکاوش کو سراہا جاتا ہے ،طلبا نے مقالہ کو بھاری بھرکم بنانے کی کوشش کی جس کی ضرورت نہیں، انہیں بلند بانگ دعووں سے بچنا چاہئیے۔‘‘
آخر میں ڈاکٹر خالد مبشرنے کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کا پروگرام آغاز ہے انجام نہیں یعنی جن طلبا کو شرکت کرنے کا موقع ملا اوراساتذہ نے ان کی ہمت افزائی کی وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم بہت بڑے مقالہ نگار ہوگئے بلکہ خوب سے خوبتر کی جستجو جاری رہے اور جن کو اس بار موقع نہ مل سکا وہ مایوس نہ ہوں طلبا سیمینار کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جس میں وہ اپنا مقالہ پیش کرسکیں گے ۔‘‘
اس موقع پر پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شہپررسول، پروفیسر احمد محفوظ،ڈاکٹر خالدجاوید، ڈاکٹرندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹرمشیراحمد، ڈاکٹرعادل حیات، ڈاکٹرانوارالحق، ڈاکٹر شاداب عالم، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹرشاداب تبسم، ڈاکٹرمحمد سمیع،ڈاکٹر سلطانہ واحدی ،ڈاکٹر فرحہ جاوید، ڈاکٹر محمد آدم، حسن جاوید اور فخر عالم کے علاوہ شعبہ کے ریسرچ اسکالرز ثاقب عمران،عبدالرحمن اور محمد مقیم کے علاوہ ایم۔فل، ایم۔اے اور بی۔ اے کے طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔فریدالدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

بصیرت آن لائن

baloch

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago