فلسطین میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی بچہ جام شہادت نوش کرگیا ہے۔ یکم اکتوبر کےبعد سے اب تک دو ماہ میں صہیونی فوج کی دہشت گردی میں 23 فلسطینی بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں جب کہ مجموعی طور پر 106 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کی شام مشرقی بیت المقدس میں راس العامود کے مقام پر ایک فلسطینی بچے 17 سالہ ایمن سمیح العباسی کو صہیونی فوجیوں ںے گولیوں سے بھون ڈالا جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگیا۔
فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی بچے العباسی کو سلوان قصبے میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ مقامی شہریوں کی ایک ریلی میں شریک تھا۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کئی گولیاں سمیح العباسی کے سینے میں پیوست ہوگئیں جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہوسکا۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید فلسطینی کو کچھ عرصہ پیشتر اسرائیلی فوجیوں نے گرفتار کیا۔
مقامی سماجی کارکن امجد ابو عصب نے بتایا کہ شہید فلسطینی کو رواں سال پانچ فروری کو اسرائیلی جیل سے 10 قید کے کاٹنے کے بعد رہا ہوا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ فلسطینی بچے کی شہادت کے بعد راس العامود سمیت القدس کے تمام شہروں میں کشیدگی اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ رات گئے تک بیت المقدس میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ فلسطینیوں نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کی اور پٹرول بم پھینکے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…