یکم نومبر دوہزار پندرہ ترکی قوم اور حکومت کے لیے انتہائی اہم دن تھا۔ اس دن ترک قوم نے اپنا انتخاب دنیا کو دکھاکر تجزیہ کاروں اور عالمی برادری کے ٹھیکیداروں سمیت سب کو حیران کردیا۔ یکم نومبر کے عام انتخابات سے بہت سارے اسلام دشمن اور اسلام پسندی کی مخالفت کرنے والوں کی امیدیں وابستہ تھیں۔ چونکہ اس سے قبل جون میں ہونے والے انتخابات میں حکمراں جماعت پارلمان میں اکثریت کھو گئی تھی۔ یکم نومبر سے پہلے بعض سروے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں جن کے مطابق حکمراں جماعت انصاف و ترقی پارٹی کی کامیابی کے امکانات کم نظر آرہے تھے۔ لیکن غیرسرکاری نتائج کے ظاہر ہونے سے اسلام پسند جماعت کی حیراں کن کامیابی سے ’دوست‘ و دشمن ششدرہ رہ گئے۔
شاید بعض قارئین کے ذہنوںمیں یہ سوال اٹھے کہ مصر و پاکستان جیسے ملکوں میں اسلام پسند جماعتوں کو اتنی پذیرائی کیوں نہیں ملتی؟ پاکستان میں تو انہیں جتنی آزادی حاصل ہے، اسلام پسند ترک دوہزاردو سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ مگر یہ تین مسلسل پارلیمانی انتخابات ہیں جن میں ایک طاقتور اسلام پسند جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے۔ ترکی میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور ان کے ووٹ کا کردار بھی کلیدی ہوتاہے۔ سیکولر اور لبرل جماعتوں کا اثرو رسوخ بھی کافی پرانا ہے۔ اس سے پہلے فوج کا کردار بھی کافی وزنی اور ناقابل انکار تھا۔
پہلی بات یہ ہے کہ موجودہ حکمراں جماعت کے رہ نما کسی دور میں نجم الدین اربکان جیسے اسلام پسند قائدین کے شاگرد و پیروکار تھے۔ ان قائدین کا خیال تھا مغربی طاقتوں کو نظرانداز کرکے وہ اپنے ملک میں استحکام لاسکتے ہیں۔ مگر فوج اور سیکولر قوتوں کی سیاست میں دخل اندازی نے انہیں موثر کردار ادا کرنے سے روک دیا۔ چودہ اگست دوہزار ایک میں جنم لینے والی جماعت نے جلد ہی پورے ترکی میں اپنا سکہ جمایا۔ اس جماعت کے رہ نماوں کا تعلق اسلام پسند، مغرب سے تعلقات بڑھانے کے خواہشمند اور معاشی ترقی کے لیے محنت کرنے والے افراد تھے۔ ترکی عوام نے نومولود سیاسی جماعت پر بھروسہ کرکے اپنی سیاسی دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور اب تک ان کا اعتماد اس جماعت پر قائم ہے۔
انصاف و ترقی پارٹی نے کسی عجلت پسندی کے بغیر بعض اسلام مخالف قوانین کی اصلاح کرائی اور فوج سے بھی ممکنہ باغی جنرلوں کو برطرف کردیا گیا۔ حتی کہ بغاوت کی کوشش کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا جس سے عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ اسلامی شعائر کو حیات نو دینے کے علاوہ اس جماعت کی حکومت نے آس پاس کے مسلم ممالک سے بھی اچھے تعلقات قائم کیا اور سیاسی و معاشی لحاظ سے اپنے ملک کو اعلی سطح تک پہنچا دیا۔ داخلی سطح پر کرد مسئلے کے حل کے لیے ان کی کوششیں بڑی حد تک کامیاب ہوئیں، کردوں کی حمایت حاصل کرنے والی ایک جماعت پارلیمنٹ آ پہنچی، کردی زبان کو کرد علاقوں میں رسمیت دی گئی اور تمام علاقوں میں غربت کی بیخ کنی میں کافی پیشرفت دیکھنے میں آئی۔ کرد مسئلہ مکمل طور پر حل ہونے والا تھا کہ شام کی صورتحال نے حالات بدل دیے، ترکی کے امن سے دشمنی رکھنے والی قوتوں کو موقع ہاتھ آیا اور عسکریت پسند تنظیم پی کے کے نے سیزفائر کے بعد اپنی تخریبی کارروائیاں از سرنو آغاز کیا۔
یہ سب کچھ بلند و بالا دعوے کے بغیر رونما ہوئے۔ اے کے پارٹی کے رہنماوں نے ’انقلاب‘ و ’اسلامی حکومت‘ جیسے نعروں اور دعووں کے بغیر خاموشی سے اپنے ملک میں انقلاب لایا اور عالم اسلام میں بھی اپنے لیے ایک خاص مقام بنایا۔ اس کے برعکس، بعض دیگر مسلم ممالک کی دینی سیاسی جماعتیں نعروں سے فراغت نہیں پاسکتیں اور حکومت و طاقت حاصل کرنے کے شوق میں بے چین یہ قائدین حکمت سے بہت بیگانہ ہیں۔ بلاشبہ ہر ملک کے حالات دوسرے ملکوں سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن اگر پاکستان جیسے ملکوں میں سرگرم دینی جماعتیں چاہیں تو ان کے لیے اے کے پارٹی کے کردار اور طرز حکومت میں کافی سبق آموز پہلو موجود ہیں۔
عبدالحکیم اسماعیل
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…