Categories: عالم اسلام

افغان طالبان نے صوبے تخار کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا

افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ شمالی صوبے تخار کے شہر درقد پر طالبان عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ قبضہ ایک شدید جھڑپ کے بعد کیا گیا۔افغانستان کے شورش زدہ شمالی صوبے تخار کے ضلع درقد پر دوبارہ قبضے کے لیے حکومتی فوج اور عسکریت پسندوں کے در میان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔
اِس شہر پر آج بدھ کی علی الصبح طالبان عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ تخار صوبے کے گورنر کے ترجمان ثنا اللہ تیمور کے مطابق درقد شہر پر قبضے کے لیے عسکریت پسندوں نے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ کیا۔
صوبائی پولیس کے ترجمان عبد الخلیل آصف کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے شہر کے مرکز پر کئی اطراف سے حملہ کیا اور اِسی باعث وہ قبضہ کرنے میں کامیاب رہے۔ حملے کی شدت کے باعث حکومتی سکیورٹی فورسز درقد شہر کے مرکزی حصے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔
اِس کے بعد طالبان نے شہر پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ذرائع ابلاغ کو ایک ای میل کر کے درقد پر قبضے بارے مطلع کیا۔ مجاہد نے بھی درقد پر قبضے کی جنگ بدھ کی علی الصبح شروع کرنے کا بتایا۔
طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر سے پسپا ہوتی پولیس کے ایک درجن سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کی ای میل میں صرف دو جہادیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ شہر کی انتظامیہ کے مطابق اِس وقت حکومتی عمارتوں بشمول پولیس ہیڈکوارٹر پر عسکریت پسندوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ تخار صوبے کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ طالبان جنگجوؤں اور حکومتی فورسز کے درمیان چھ گھنٹے تک درقد پر قبضے کی جنگ جاری رہی۔ اِن کے مطابق حکومتی سکیورٹی فورسز ضرور پیچھے ہٹی ہیں لیکن شہر پر دوبارہ قبضے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔
صوبائی صدر مقام طالقان میں بھی صوبائی انتظامیہ شہر کی بازیابی کے حوالے سے خصوصی سکیورٹی اجلاس کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہے۔ دو روز قبل آنے والے زلزلے سے بھی درقد کے کئی علاقوں میں تباہی ہوئی تھی۔تاخار کا صوبہ افغانستان کے انتہائی شورش زدہ صوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ درقد وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان کی سرحد سے جڑا ہوا شہر ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وسطی ایشیا کی مسلمان ریاستوں میں پائی جانے والی جہادی تحریکوں کے افراد دوسرے راستوں کے علاوہ اِسی صوبے کے ذریعے بھی افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔
کابل حکام کے مطابق طالبان کی صفوں میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے انتہا پسند بھی شامل ہیں۔ ان میں خاص طور پر اسلامک موومنٹ برائے ازبکستان کے جنگجو نمایاں ہیں۔

بصیرت آن لائن

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago