ترکی میں گزشتہ روز ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 100 افراد کی ہلاکت پر 3 روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔
ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ روز انقرہ ریلوے اسٹیشن کے باہر سیاسی جماعت کے امن مارچ کے دوران ہونے والے بم دھماکوں میں 100 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ترک وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں میں زخمیوں کی تعداد 246 تک بڑھ گئی ہے، جن میں سے 48 انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں کو دارالحکومت انقرہ کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
بم دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر ترکی میں فضا سوگوار ہے اور حکومت کی جانب سے 3 روزہ سوگ منایا جارہا ہے، صدر رجب طیب ایردوان، وزیر اعظم احمد داود اوغلو اور ری پبلکن پیپلز پارٹی کے رہنما کمال کلچ دار اوغلو نے اپنی مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔
وزیر اعظم داود اولو نے ملک میں سیکورٹی کے حوالے سے اجلاس کی قیادت کی ہے، جس میں نائب وزیر اعظم آکدوان، وزیر داخلہ، وزیر صحت، خفیہ سروس کے سیکرٹری ، محکمہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور انقرہ کے گورنر نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز انقرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکے ہوئے تھے جب ’’محنت، امن و جمہوریت اور جنگ کے خلاف جدوجہد سے عنوان سے نکالی جانے والی پرامن ریلی میں شرکت کے لئے لوگ جمع ہورہے تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…