مغربی معاشروں میں حجاب کے متعلق ہمیشہ تعصبانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے لیکن پہلی بار حجاب کے متعلق ایک ایسا انکشاف ہوا ہے جسے معجزہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
برطانیہ کے شہرلیڈز میں سلواکیہ کے ایک شہری نے بس سٹاپ پر ایک حجاب پہنے ہوئے 18 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اوراسے قتل کرنے کے لیے اس کے سر پر 18 بار پتھر سے وار کیا لیکن وہ محفوظ رہی۔
پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ لڑکی کے سر پر حجاب ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی۔ متاثرہ لڑکی بیسٹن کے علاقے میں ایک بس سٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ 21 سالہ ملزم زڈینکو ٹورٹک نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے قریبی باغ میں لے گیا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے سر پر پتھر مارتا رہا۔
لڑکی کے سر پر کچھ چوٹیں تو لگیں لیکن 18 بار مارے جانے کے باوجود اس کی جان بچ گئی۔ ملزم واقعے کے بعد اپنے آبائی ملک سلواکیہ فرار ہو گیا۔ لیکن ایک خفیہ کیمرے میں اس کے وحشیانہ عمل کی ویڈیو بن چکی تھی۔ پولیس نے وہ ویڈیو نشر کر دی تاکہ ملزم کو گرفتار کیا جا سکے۔ اس کے بعد پولیس نے اس کی گرفتاری کی عالمی مہم چلائی۔ پولیس کے درجنوں آفیسرز نے اس کیس کی تحقیقات میں حصہ لیا اور لیڈز کے سینکڑوں مردوں کے ٹیسٹ کروائے گئے۔ بعد ازاں شناخت ہونے پر برطانوی پولیس ملزم کو سلواکیہ سے گرفتار کر کے برطانیہ لے آئی۔
ملزم نے کیس کی سماعت کے دوران جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس نے لڑکی کے تفصیلی طبی معائنے کے بعد عدالت میں جو رپورٹ جمع کروائی اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لڑکی صرف حجاب کی وجہ سے محفوظ رہی۔ چوٹیں اس قدر زور دار تھیں کہ اگر اس نے حجاب نہ پہن رکھا ہوتا تو وہ زندہ نہ بچ پاتی۔ کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…