Israeli police officers take positions on the roof of al-Aqsa mosque during clashes with Palestinians in Jerusalem's Old City September 28, 2015. REUTERS/Amir Cohen
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں آنے والے وزراء اور ارکان پارلیمان کو مسجد الاقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی بدھ کی اشاعت میں اسرائیلی وزراء اور ارکان پارلیمان کے مسجد الاقصیٰ میں داخلے کو روکنے کی اطلاع دی ہے۔اس اقدام کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں اور قابض فورسز کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
مسجد الاقصیٰ میں حالیہ دنوں کے دوران قابض اسرائیلی فورسز اور یہود کی دراندازی کے خلاف فلسطینیوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور غرب اردن کے مختلف شہروں اور قصبوں میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
فلسطینی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیل مسجد الاقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اس مقدس مقام کے موجودہ ”اسٹیٹس کو” کے مطابق یہود کو وہاں زائر کی حیثیت سے داخل ہونے کی اجازت ہے مگر انھیں عبادت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا موجودہ انتظامات کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر یہودیوں کا ایک انتہا پسند گروپ اپنے ہم مذہبوں کو مسجد الاقصیٰ میں آنے پر اُکسا رہا ہے اور اس کی اس تحریک کے پیش نظر ہی اسرائیل مسلمانوں کی ان کے قبلہ اوّل میں داخلے پر آئے دن پابندیاں عاید کردیتا ہے۔
واضح رہے کہ اردن مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کا ذمے دار ہے اور وہ مسجد الاقصیٰ میں کوئی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں اسرائیل سے شکایت کرتا ہے۔انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں اور ان کی مزاحمت کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔
یہودی مسجد الاقصیٰ کے لیے ٹیمپل ماؤنٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔غیر مسلموں کو صرف اجازت ناموں کے ذریعے ہی الاقصیٰ کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت ہے لیکن یہودیوں کو مسجد کے اندر عبادت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے گڑبڑ کا اندیشہ رہتا ہے۔اس کے بجائے وہ مسجد الاقصیٰ کی دیوارغربی کے نیچے عبادت کرسکتے ہیں۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں بار بار مداخلت کی کوشش سے اس کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔وہ جب ان انتہا پسند یہودیوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس کشیدگی کے خاتمے اور امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…