قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اپنی غاصبانہ پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے ایک 13 سالہ فلسطینی بچے کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ 13 سالہ عبدالرحمان شادی مصطفیٰ کو عایدہ مہاجر کیمپ میں فلسطینی نوجوانوں اور بھاری اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران سینے میں گولی لگنے سے جان لیوا زخم ہوا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ماہر نشانہ باز [اسنائپر] نے ان کو دل میں گولی ماری اور انہیں شدید زخمی حالت میں بیت جلا ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر آمد کے بعد انہوں نے آخری سانس لیا۔
اس شہادت کے بعد جمعرات کے روز سے شروع ہونیوالی اسرائیلی کارروائیوں میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں سے شہید ہونے والے فلسطینی کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام