قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اپنی غاصبانہ پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے ایک 13 سالہ فلسطینی بچے کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ 13 سالہ عبدالرحمان شادی مصطفیٰ کو عایدہ مہاجر کیمپ میں فلسطینی نوجوانوں اور بھاری اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران سینے میں گولی لگنے سے جان لیوا زخم ہوا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ماہر نشانہ باز [اسنائپر] نے ان کو دل میں گولی ماری اور انہیں شدید زخمی حالت میں بیت جلا ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر آمد کے بعد انہوں نے آخری سانس لیا۔
اس شہادت کے بعد جمعرات کے روز سے شروع ہونیوالی اسرائیلی کارروائیوں میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں سے شہید ہونے والے فلسطینی کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…