قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اپنی غاصبانہ پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے ایک 13 سالہ فلسطینی بچے کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ 13 سالہ عبدالرحمان شادی مصطفیٰ کو عایدہ مہاجر کیمپ میں فلسطینی نوجوانوں اور بھاری اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران سینے میں گولی لگنے سے جان لیوا زخم ہوا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ماہر نشانہ باز [اسنائپر] نے ان کو دل میں گولی ماری اور انہیں شدید زخمی حالت میں بیت جلا ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر آمد کے بعد انہوں نے آخری سانس لیا۔
اس شہادت کے بعد جمعرات کے روز سے شروع ہونیوالی اسرائیلی کارروائیوں میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں سے شہید ہونے والے فلسطینی کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید