مصری دارالحکومت قاہرہ کی یونیورسٹی کی خاتون اساتذہ کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایک عرب ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی کے صدر جابر نصرن نے بتایا کہ یہ فیصلہ نئے سیمسٹر کے آغاز سے نافذالعمل ہو گا۔
یونیورسٹی کے صدر جابر نصرن کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ دوران تعلیم خاتون اساتذہ کے طلبا و طالبات کے ساتھ رابطوں اور ابلاغ کو آسان بنایا جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق خواتین اساتذہ کی طرف سے چہرے کو نقاب کے ساتھ چھپا لینے پر اس پابندی کا اطلاق یونیورسٹی میں دیئے جانے والے لیکچرز اور وہاں منعقد کردہ سیمینارز پر بھی ہوگا تاہم تعلیم کے بعد اگر ٹیچنگ سٹاف کی رکن خواتین چاہیں تو انہیں یونیورسٹی کیمپس پر اپنی موجودگی کے عرصے میں نقاب پہننے کی اجازت ہو گی۔
اس فیصلے پر مذہبی رہنما یاسر برہانی نے کہا کہ نقاب یا حجاب کے استعمال پر پابندی قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…