مصری دارالحکومت قاہرہ کی یونیورسٹی کی خاتون اساتذہ کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایک عرب ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی کے صدر جابر نصرن نے بتایا کہ یہ فیصلہ نئے سیمسٹر کے آغاز سے نافذالعمل ہو گا۔
یونیورسٹی کے صدر جابر نصرن کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ دوران تعلیم خاتون اساتذہ کے طلبا و طالبات کے ساتھ رابطوں اور ابلاغ کو آسان بنایا جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق خواتین اساتذہ کی طرف سے چہرے کو نقاب کے ساتھ چھپا لینے پر اس پابندی کا اطلاق یونیورسٹی میں دیئے جانے والے لیکچرز اور وہاں منعقد کردہ سیمینارز پر بھی ہوگا تاہم تعلیم کے بعد اگر ٹیچنگ سٹاف کی رکن خواتین چاہیں تو انہیں یونیورسٹی کیمپس پر اپنی موجودگی کے عرصے میں نقاب پہننے کی اجازت ہو گی۔
اس فیصلے پر مذہبی رہنما یاسر برہانی نے کہا کہ نقاب یا حجاب کے استعمال پر پابندی قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان