افغانستان میں طالبان نے غزنی کی جیل پر حملہ کرکے 350 سے زائد قیدی چھڑا لئے۔
غزنی کے صوبائی نائب گورنر محمد علی احمد نے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان فوج کی وردی میں ملبوس طالبان نے سب سے پہلے جیل کے مرکزی دروازے پر خودکش کار بم دھماکا کیا جس کے بعد راکٹوں اور جدید خودکار ہتھیاروں سے لیس حملہ آور جیل میں داخل ہو گئے۔ جیل پر حملے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ 7 حملہ آور بھی مارے گئے۔
محمد علی احمد کا کہنا تھا کہ جیل پر انتہائی منظم طریقے سے انتہائی منظم انداز میں کیا گیا، انہوں نے جیل کی جانب جانے والے راستوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھائی تھیں تاکہ جیل میں موجود پولیس اہلکاروں کی مدد کے لئے مزید دستے نہ پہنچ سکیں۔ حملے کے بعد جیل کی طرف جانے والی ایک فوجی گاڑی سڑک میں نصب بم سے تباہ ہو گئی۔
نائب گورنر نے کہا کہ حملے کے دوران 402 سے زائد قیدی فرار ہوئے تھے جن میں سے 80 دوبارہ پکڑ لیا گیا جب کہ 352 بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں سے 150 کا تعلق طالبان سے ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 خودکش بمباروں اور مسلح جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا، جس میں تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے۔ اس حملے میں افغان سیکیورٹی فورسز کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے اور کئی اہم طالبان کمانڈروں کو چھڑوا لیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…