افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ وہ اس دھماکے میں ملوث نہیں ہیں۔
افغان ویب سائٹ خاما پریس کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری ہونے والا بیان کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے کے فوری بعد سامنے آیا تھا۔
طالبان نے مزید کہا ہے کہ طالبان جنگجو رہنما کی اجازت کے بغیر حملہ نہیں کرتے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل میں موجود اپنے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کی جانب سے دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 12 افراد ہلاک جبکہ 66 افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
خود کش بمبار نے کابل میں غیر ملکیوں کی گاڑی کو کابل میں نشانہ بنایا تھا جس میں 3 غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ میں ہونے والے کابل کے خود کش دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی جس میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ افغان حکومت نے گذشتہ دنوں اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ طالبان کے بانی رہنما ملا عمر دو سال قبل ہلاک ہو چکے ہیں جس کی تصدیق طالبان کی جانب سے بھی کی گئی اور ان کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا کمانڈر مقرر کردیا گیا۔
ملا اختر منصور کے امیر مقرر کئے جانے پر متعدد طالبان دھڑوں میں اختلافات کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں جبکہ قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے بھی ان اختلافات کے باعث مستعفی ہونے کا اعلان کیا.
گذشتہ سال دسمبر میں ایک معاہدے کے تحت نیٹو فورسز کا افغانستان سے انخلاء مکمل ہوگیا تھا جس کے بعد یہاں مقامی فورسز کی ٹریننگ کے لیے صرف 10 ہزار امریکی فوجی مقیم ہیں۔
نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد افغان فورسز کو طالبان کے شدید حملوں کا سامنا ہے جس میں اب تک سینکٹروں افغان اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
ڈان نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار