اقوام متحدہ کی سفیر برائے انسانی حقوق ینگہی لی کا کہنا ہے کہ وہ میانمار کے دورے سے مایوس ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اقوام متحدہ کی سفیر کا کہنا تھا کہ ان پر میانمار کے روہنگیا مسلمانوں سے ملاقات کی پابندی لگائی گی جبکہ سینئر حکام سے ملاقات کو آخری لمحات میں منسوخ کردیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ حکومتی ناقدین سے ملاقات کے لیے گئی تو وہاں موجود سیکیورٹی حکام خفیہ طریقے سے ان کی تصاویر بناتے رہے۔
اقوام متحدہ کی سفیر برائے انسانی حقوق ینگہی لی رواں برس نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دورے پر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پروگرام کے مطابق لوگوں تک رسائی میں سنگین رکاوٹ کی وجہ سے ان کے مینڈیٹ کو پورا کرنا ناممکن بنا دیا گیا’۔
خیال رہے کہ ایک سال قبل اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خصوصی سفیر منتخب ہونے کے بعد میانمار میں یہ ان کا تیسرا دورہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دورے میں ان کے چلینجز میں اضافہ ہوا اور خاص طور پر حساس معاملات ، جن میں ملک کی 13 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا جانے والا برتاؤ، اہم تھا۔
یاد رہے کہ 2012ء میں مشتعل ہجوم کے حملوں نے ڈھائی لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو کشتیوں کے ذریعے اور کیمپس کی جانب بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا، جہاں ان کو صحت اور تعلیم کے حوالے سے سہولیات کے فقدان کا سامنا تھا جبکہ ان کو آزادی سے نقل و حمل کی اجازت بھی نہ تھی۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…