افغان پارلیمنٹ پر اجلاس کے دوران طالبان کے حملے کے بعد دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد کی مدد سے اڑا لیا جس کے بعد اس کے دیگر ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر گھس گئے۔ حملے کے وقت افغان پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ لگ گئی اور ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔ دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے پارلیمنٹ پر اس وقت حملہ کیا جب وزیردفاع کو ایوان میں متعارف کرایا جا رہا تھا۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…