فرانسیسی وزیراعظم مینیوئل والس نے پیر کے روز کہا کہ اسلام اور شدت پسندی کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے یہ بات فرانس کی مسلم کمیونٹی سے ایک خطاب میں کہی جس کا مقصد ملک کے مسلم آبادی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ یہ سب اسلام نہیں۔
پیرس میں عسکریت پسندوں کے حملے جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے کہ پانچ ماہ بعد اس فورم کو منعقد کیا گیا۔
یہ حکومت کی مسلم کمیونٹی کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات کی سیریز کی پہلی ملاقات تھی۔
فرانس میں 50 لاکھ مسلمان آباد ہیں جو کہ یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
جنوری کے حملے کے بعد سے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف حرکات اور مسجدوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
وزیر داخلہ برنارڈ کیزینیوی نے فورم پر موجود 120 مسلم رہنماؤں کو بتایا کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے خطرات جانچنے میں انہیں پریشانی کا سامنا ہے کیوں کہ زیادہ تر متاثر ہونے والے افراد کھل کر سامنے نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ ہم ان احساسات کے خلاف کام کریں، متاثرین کو ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کو رپورٹ کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ رہنماؤں نے مذہبی مقامات کی سیکیورٹی، میڈیا میں اسلام کی تشہیر کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
ڈان نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…