شمال مشرقی افغانستان میں سینکڑوں طالبان عسکریت پسندوں نے صوبے بدخشاں میں سرکاری دستوں کی کئی چوکیوں پر حملہ کرنے کے بعد ایک پورے ضلع پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اس قبضے کی ہفتے کے روز افغان حکام نے تصدیق کر دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدخشاں میں صوبائی پولیس کے ترجمان لعل محمد احمد زئی نے صحافیوں کو بتایا کہ بڑے بڑے گروپوں کی صورت میں طالبان باغیوں نے بدخشاں کے ضلع یمگان پر اس حملے کا آغاز جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کیا۔ اس دوران عسکریت پسند چند گھنٹوں میں ہی یمگان کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق مقامی حکام نے اس حملے کے فوری بعد یمگان کے نواحی اضلاع اور صوبائی حکومت سے مزید مسلح دستوں اور باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے کی درخواست کر دی تھی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یمگان پر یہ حملہ طالبان نے کیا اور ایک بڑی کارروائی کے بعد بدخشاں کا یہ ضلع اب طالبان کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
افغانستان میں طالبان ہر سال سردیوں کی شدت کم ہوتے ہی موسم بہار میں اپنی مسلح کارروائیاں تیز تر کر دیتے ہیں اور یہ سلسلہ گرمیوں کے اختتام تک جاری رہتا ہے.
اردو ٹائمز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید