شمال مشرقی افغانستان میں سینکڑوں طالبان عسکریت پسندوں نے صوبے بدخشاں میں سرکاری دستوں کی کئی چوکیوں پر حملہ کرنے کے بعد ایک پورے ضلع پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اس قبضے کی ہفتے کے روز افغان حکام نے تصدیق کر دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدخشاں میں صوبائی پولیس کے ترجمان لعل محمد احمد زئی نے صحافیوں کو بتایا کہ بڑے بڑے گروپوں کی صورت میں طالبان باغیوں نے بدخشاں کے ضلع یمگان پر اس حملے کا آغاز جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کیا۔ اس دوران عسکریت پسند چند گھنٹوں میں ہی یمگان کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق مقامی حکام نے اس حملے کے فوری بعد یمگان کے نواحی اضلاع اور صوبائی حکومت سے مزید مسلح دستوں اور باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے کی درخواست کر دی تھی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یمگان پر یہ حملہ طالبان نے کیا اور ایک بڑی کارروائی کے بعد بدخشاں کا یہ ضلع اب طالبان کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
افغانستان میں طالبان ہر سال سردیوں کی شدت کم ہوتے ہی موسم بہار میں اپنی مسلح کارروائیاں تیز تر کر دیتے ہیں اور یہ سلسلہ گرمیوں کے اختتام تک جاری رہتا ہے.
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…