مصرکی ایک فوج داری عدالت کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کے 100 سے زائد کارکنوں اور ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کو سزائے موت سنائے جانے کےایک متنازعہ فیصلے کے بعد قاہرہ نے قطر سے علامہ القرضاوی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے معاون وزیر انصاف ایڈووکیٹ عادل فہمی نے قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ سے رابطے کے بعد قطری حکومت سے دوسری بار یوسف القرضاوی کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مصر کی عدالت یوسف القرضاوی اور کئی دوسرے سابق حکومتی عہدیداروں کو سزائے موت سنا چکی ہے اور ان کا کیس مفتی اعظم کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اب قطر کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ یوسف القرضاوی سمیت قاہرہ کو مطلوب تمام افراد ہمارے حوالے کردے۔
معاون وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ انہوں نے یوسف القرضاوی کی حوالگی کا مطالبہ عالمی قانون کی روشنی میں کیا ہے۔ مصری پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے شعبہ عالمی تعاون کی جانب سے پوری تیاری کے بعد یوسف القرضاوی، عاصم عبدالماجد اور اخوان المسلمون کے دیگر رہ نماؤں کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ ان پر مصرمیں بغاوت کے دوران شہریوں کے قتل، اقدام قتل اور تشدد پر اکسانے کے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…