مصرکی ایک فوج داری عدالت کی جانب سے معزول صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کے 100 سے زائد کارکنوں اور ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کو سزائے موت سنائے جانے کےایک متنازعہ فیصلے کے بعد قاہرہ نے قطر سے علامہ القرضاوی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے معاون وزیر انصاف ایڈووکیٹ عادل فہمی نے قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ سے رابطے کے بعد قطری حکومت سے دوسری بار یوسف القرضاوی کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مصر کی عدالت یوسف القرضاوی اور کئی دوسرے سابق حکومتی عہدیداروں کو سزائے موت سنا چکی ہے اور ان کا کیس مفتی اعظم کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اب قطر کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ یوسف القرضاوی سمیت قاہرہ کو مطلوب تمام افراد ہمارے حوالے کردے۔
معاون وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ انہوں نے یوسف القرضاوی کی حوالگی کا مطالبہ عالمی قانون کی روشنی میں کیا ہے۔ مصری پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے شعبہ عالمی تعاون کی جانب سے پوری تیاری کے بعد یوسف القرضاوی، عاصم عبدالماجد اور اخوان المسلمون کے دیگر رہ نماؤں کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ ان پر مصرمیں بغاوت کے دوران شہریوں کے قتل، اقدام قتل اور تشدد پر اکسانے کے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…