Categories: مشرق وسطی

داعش کا شام کے تاریخی شہر تدمر پر مکمل قبضہ

اسلام پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور ان کے اتحادی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد شام کے تاریخی شہر تدمر پر قبضہ کر لیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو داعش کی میدان جنگ میں اس کامیابی کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ تدمر کے شمالی حصے میں واقع سکیورٹی اداروں کی عمارتوں کے نزدیک داعش کے جنگجوؤں اور اسدی فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں شکست کے بعد اسدی فوج اور اس کے کی اتحادی جنگجو پسپا پوگئے ہیں۔
داعش کے جنگجوؤں نے عالمی تاریخی ثقافتی ورثے کے امین شہر تدمر پر قبضے کے لیے 13 مئی کو حملے کا آغاز کیا تھا۔یہ شام کا پہلا شہر ہے جہاں داعش نے اسدی فوج کو میدان جنگ میں شکست دینے کے بعد قبضہ کیا ہے جبکہ اس نے قبل ازیں دوسرے جنگجو گروپوں کے زیر قبضہ شہر ہی ان سے چھینے تھے۔
تدمر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران لڑائی میں ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اسدی فوج اور داعش کے جنگجوؤں نے ایک دوسرے پر مارٹر گولے فائر کیے ہیں جبکہ اسدی فوج نے شہر کے شمالی حصوں پر بمباری کی ہے۔
تدمر کے ایک مکین محمد نے بتایا ہے کہ شہر میں لڑائی کے نتیجے میں پانی کی قلت ہوچکی ہے،بجلی منقطع ہے اور شمالی حصے میں آباد لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔ان میں سے بعض شاہراہوں اور بازاروں میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
داعش کے جنگجوؤں نے سوموار کے روز تدمر کے نواح میں واقع دو گیس فیلڈز پر قبضہ کر لیا تھا۔انہی سے شامی حکومت علاقے میں بجلی پیدا کررہی تھی۔تدمر کے نواح میں واقع دو ہزار سال قدیم ایک تاریخی جگہ کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔
شام کے محکمہ نوادرات اور تاریخی آثار کے ڈائریکٹر مامون عبدالکریم اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ داعش کے جنگجو تدمر میں تاریخی عمارات اور پہلی اور دوسری صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے گرجا گھروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انھوں نے عالمی برادری سے تدمر میں واقع تاریخی عمارات کو داعش کے جنگجوؤں کی دست بُرد سے بچانے کی اپیل کی ہے۔
آبزرویٹری کی ایک اور اطلاع کے مطابق شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں سرکاری فوج کے ایک فضائی حملے میں بائیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ شامی فوج نے منگل کو شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر واقع گاؤں دارکش پر فضائی حملہ کیا تھا۔
ادلب میں مزاحمت کاروں نے گذشتہ روز اسدی فوج کے ایک اور اڈے پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ان کی خانہ جنگی کا شکار ملک کے اس حصے پر گرفت مزید مضبوط ہوگئی ہے۔ سرکاری فوجیوں نے اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد المسطومہ میں واقع ملٹری بیس کو خالی کردیا تھا اور وہ ادلب کے شمالی قصبے الریحہ کی جانب چلے گئے تھے۔
ادھر دارالحکومت دمشق میں ایک اسکول پر مارٹر گولوں کے حملے میں ایک استاد ہلاک اور بیس طلبہ زخمی ہوگئے ہیں۔فوری طور پر کسی باغی جنگجو گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

baloch

Recent Posts

اسرائیلی محاصرے کے باعث مغربی کنارے میں 80,000 فلسطینی طلبہ اسکول جانے سے محروم

اسرائیلی محاصرے کے باعث مغربی کنارے میں 80,000 فلسطینی طلبہ اسکول جانے سے محروم

54 minutes ago

امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے

امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…

1 day ago

مصنوعی ذہانت اور معاصر فقہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…

4 days ago

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

1 week ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

1 week ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

2 weeks ago