بعض اہل الرائے کے نزدیک پروپیگنڈہ مشکوک اغراض و مقاصد کے تحت افراد یا جماعتوں پر اثر انداز ہونے اور ان کے عادات و اطوار و رجحانات و نظریات کو بدلنے کی سعی و کوشش کا نام ہے، جس کا تعلق سوسائٹی، خاص وقت اور اہم غرض و غایت سے ہے۔
پروپیگنڈہ کی دوسری تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ عوام یا قومی میڈیا کو کسی خاص اور متعین پارٹی کے کسی خاص مقصد کو بروے کار لانے کے لئے ذہن و دماغ اور جذبات پر اثر انداز ہونے کے جد و جہد کا نام ہے، خواہ وہ مقصد سماجی ہو یا اقتصادی یا سیاسی۔
پروپیگنڈہ کی تیسری مختصر تعریف یہ ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعہ غیر جانبدار جماعت یا دشمن جماعت کے افراد کے قلوب و اذہان اور وجدان و جذبات پر خاص حکمت عملی اور مخصوص ٹکنک کے تحت اثرانداز ہونے کی کوشش کا نام ہے، اس لحاظ سے پروپیگنڈہ نفسیاتی جنگ میں بنیادی و اساسی محرک و عامل ہے، چنانچہ ایک جرمن قائد نے اس کی حقیقت و اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’دشمن کے توپ خانہ کو برباد کرنے کے لئے ہم بم کا استعمال کرتے ہیں کیا اس سے زیادہ موزوں اور مناسب بات یہ نہیں ہے کہ جو ذہن توپ خانے کا استعمال کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ان کو بدل دیا جائے تا کہ وہ ہاتھ نہ چلیں جو توپ خانہ کا استعمال کرتے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں پروپیگنڈہ کا استعمال مختلف اغراض و مقاصد اور متنوع وسائل و ذرائع کے تحت کیا جاتا ہے، عرب اسرائیل کے درمیان جنگوں میں اسلامی دعوت کے طریقہ کار کو استعمال نہیں کیا گیا ان کی جگہ غیر اسلامی وسائل و ذرائع نے لے لی، چنانچہ اس غیر اسلامی پروپیگنڈہ سے نہ اسلامی مقصد حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی ناواقف کی رہنمائی اور نہ ہی اس کے فکر کی تشکیل و تعمیر ہوتی ہے، دوسری طرف مختلف اغراض و مقاصد کے تحت پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کی منظّم اور مربوط شکلیں موجود ہیں، یہ تمام کے تمام طریقے معاشرہ کے معیار کے مطابق کامیاب ہیں، اس میں اس اتفاق ہو یا نہ ہو، مثلاً ارجنٹائنا، اور برطانیہ کے درمیان فوکلینڈ کے مسئلہ پر جنگ کے موقع پر، پناما کی حکومت گرانے اور گرینا ڈاپر حملہ کرنے اور ہندوستان میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے موقع پر، پروپیگنڈہ نے کامیاب اور اہم ترین رول ادا کیا۔ (۱)

پروپیگنڈہ کی قسمیں:
پروپیگنڈہ کی مختلف قسمیں ہیں جن میں سرفہرست سفید پروپیگنڈہ ہے، یہ قسم بہت عام اور واضح ہے، اس کا سرچشمہ حکومتی ذرائع ابلاغ، بالخصوص، اخبارات، رسائل، ریڈیو اور ٹی وی میں ان کا استعمال خاص و متعین مقاصد میں ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر کھلی نفسیاتی جنگ میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔
پروپیگنڈہ کی دوسری قسم سیاہ پروپیگنڈہ ہے، یہ مخفی پروپیگنڈہ ہوتا ہے، جس کا دار و مدار خفیہ گفتگو پر ہوتا ہے، اس کا حقیقی سرچشمہ انتہائی راز میں ہوتا ہے، لیکن یہ خفیہ طور پر پھیلتا اور اثر انداز ہوتا ہے، سیاہ پروپیگنڈہ دشمن کی سرزمین یا اس کی سرحد سے قریب میں جاری رہتا ہے، اور سر و جنگ میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے، اس مہم کو جاسوس انجام دیتے ہے، اس کو ففتھ کا لمسٹ یا پانچواں کالم کہا جاتا ہے۔

پروپیگنڈہ کے مقاصد:
پروپیگنڈہ کے بنیادی مقاصد مندرجہ ذیل ہیں:
.دشمن کی صفوں میں انتشار اور ہیجان پیدا کرنا .عوام و خواص کو نافرمانی پر ابھارنا. طاعت و فرمان برداری کے خلاف جذبہ بغاوت پیدا کرنا. عوام الناس میں قائدین اور رہنماؤں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا، ان کے درمیان باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا، اور مستحکم قیادت کو کمزور کرنا. کسی خاص مسئلہ کے بارے میں ذہن بدلنا، واقعات کو توڑ مروڑ کرنا پیش کرنا، اعلانیہ بھڑکانے کا کام کرنا، اپنے معاشرہ کے محاسن اور خوبیوں کو اجاگر کرنا. دوسری معاشرہ کے محاسن کو نظر انداز کر کے شاذ و نادر واقعات کو بڑھا چڑھا کرپیش کرنا، معمولی کمزوریوں کو نمایاں کرنا. ترقی کے کاموں کو نظرانداز کرکے پسماندگی پر زور دینا۔
پروپیگنڈہ کے دو معیار ہیں، ایک ٹکنیکی اور دوسرے اسٹراٹیجی، ٹکنیکی معیار مندرجہ ذیل ہیں۔
پروپیگنڈہ کے لئے زیادہ سے زیادہ بہتر اور موزوں لوگوں کے جذبات حاصل کرنا عجوزہ پروپیگنڈہ کے لئے حالات کو سازگار اور موافق بنانا تا کہ سماج اس کو قبول کر سکے، عوام کی ضروریات و ترجیحاتاور مطالبات کی تحقیق و جستجو کرنا تا کہ پروپیگنڈہ میں ان کی اہم ترین ضروریات کو بالترتیب ملحوظ رکھا جائے۔
اسی طرح اسٹراٹیجک معیار پر پروپیگنڈہ حسب ذیل بنیادوں پر قائم ہوتا ہے، معاشرہ کے مسائل کے بارے میں مکمل رضامندی اور پسند پر اعتماد نہ کرنا،معاشرہ کی نئی سرگرمیوں کو دوبارہ عملی جام پہنانے کی سعی کرنا اور ان پہلوؤں کو چھیڑنا جو بنیادی فکر کو متاثر کریں، یہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کی خاصیت ہے، نئے مسائل کو از سر نو ابھارنا تا کہ مشکلات کو اسلام کی روشنی میں دیر پاحل تلاش کرنے کے بجائے خارجی اشیا کی روشنی میں حل کئے جانے پر لوگوں کو مجبور کیا جائے۔

پروپیگنڈہ کے اسالیب:
یوں تو پروپیگنڈہ کے متنوع اسالیب ہیں، لیکن ان میں مندرجہ ذیل اسالیب بہت مشہور ہیں۔
.لطیفہ کا اسلوب: اس کا تعلق ان اقوام و ملل سے ہے جو عمدہ معاشی معیار کا خوگر ہوگئی ہیں، یہ اسلوب عام طور پر بہت مؤثر ہے۔
. تکرار کا اسلوب: اس میں پروپیگنڈہ باز پوری طرح مطمئن ہوجائیں کہ مجوزہ پروپیگنڈہ دل و دماغ میں راسخ اور پیوست ہوگیا ہے۔
.دینی اسلوب: اسلامی معاشرہ میں اس نام کا اسلوب نامناسب ہے، کیونکہ اسلام میں اصلاً دین کا اسلوب اور دنیا کا اسلوب الگ الگ نہیں پایا جاتا، بلاشبہ اسلام مکمل دین اور کامل نظام و ضابط حیات ہے، لیکن دوسری سوسائٹیوں میں دین و مذہب کو کچھ مدت تک پروپیگنڈہ کی خدمت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
.کذب بیانی اور افترا پردازی کا اسلوب: یہ اسلوب جھوٹ، تحریف اور حذف و اضافہ کو شامل ہے، اس طرح کی واضح مثالیں بابری مسجد، مسجد گیان واپی، اور متھرا کی عیدگاہ ہندوستان میں اور فلسطین کے قضیہ میں اسرائیلی پروپیگنڈہ ہیں۔
. ترانوں اور گانوں کا اسلوب: یہ اسلوب جہاد کے جذبہ کو فروزاں کرنے، ظالموں کے خلاف انتقامی جوش پیدا کرنے اور مظلوموں کی نصرت و حمایت اور ملک و وطن کی حفاظت کے لئے و لولہ پیدا کرنے کے لئے مفید ہے۔
. اشتعال انگیز نعروں کا اسلوب: اس کا اصل مقصد بزدل رہنماؤں کے دھمکی آمیز اعلانات اور بیانات کو دہرانا ہے، نیز اتحاد و ترقی اور تہذیب و تمدن، روٹی کپڑا اور مکان، انصاف و مساوات اور جمہوریت و خوش حالی جیسے الفاظ کی تکرار ہے، ہمارے ملک میں بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ میں ان اشتعال انگیز بیانات کو بڑا دخل ہے جو اس تحریک کے مخالف اور موافق رہنماؤں نے دیئے، جیسے یہ کہنا کہ ہم خون کا بحر احمر جاری کردیں گے، ہم سروں کا قطب مینار بنادیں گے، دہلی سے اجودھیا جاتے ہوئے راستے میں جتنے مندر ملیں گے ہم ان کو مسمار کردیں گے، وہ شو ہندو پریشد کے یہ نعرے، مسلمانوں کے دوہی استھان پاکستان یا قبرستان، تیل لگاؤ ڈابر کا نام مٹاؤ بابر کا۔
. جوابی پروپیگنڈہ: ہم یہاں اسلام کے جوابی پروپیگنڈہ کا ذکر کیں گے، یہ پروپیگنڈہ بین الاقوامی سازشوں کے مقابلہ میں مادی ٹکنک سے مسلح ہے، پروپیگنڈہ باز گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، اور بسا اوقات حقائق و واقعات سے متعلق اپنے اوراق اور تحریریں نذر آتش کر ڈالتے ہیں، پھر کف افسوس ملتے ہیں، اسلام کے جوابی پروپیگنڈہ کو اپنے حق میں مندرجہ ذیل امور کی روشنی میں زیادہ مؤثر اور سودمند بناسکتے ہیں، جوابی پروپیگنڈہ کی پہلی کامیابی کی بنیادی شرط کتاب و سنت کی طرف واپسی اور ان کی تعلیمات پر کامل اعتماد بھروسہ ہے، دشمن کے پروپیگنڈہ کو دین و شریعت کے ترازو میں تول کراسکے اہم عناصر ترکیبی کا تجزیہ کرنا تا کہ وہ ہوا میں تحلیل ہوجائے، یا اس کی حقیقت واضح ہو جائے۔
.دشمن کے پروپیگنڈہ کے مہم میں کمزور پہلووں کو تلاش کرنا پھر سب سے کمزور پہلو پروار کرنا، براہ راست دشمن کے ٹکراؤ سے بچتا، اس لئے کہ اس سے دشمن کو تقویت پہنچے گی۔
.دشمن کے پروپیگنڈہ کے لئے ناسازگار ماحول پیدا کرنے کی سعی کرنا، یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ پر بھی اس کا اثر نہ ہو۔ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
(۱) بابری مسجد کے سلسہ میں پہلے اس کو متنازعہ بابری مسجد ’’رام جنم بھومی‘‘ پھر رام جنم بھومی بابری مسجد پھر متنازعہ ڈھانچہ اور اس کی منتقلی آخر میں عملا اس کی دیوار کو مٹا کر رکھ دیا گیا۔
(۲) تعمیر حیات ۱۰؍جنوری ۱۹۹۲ء مقالہ ظاہر بن سعید راہبی، تلخیص و ترجمہ خالد فیصل ندوی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، تالیف نَذرُالحَفیظ ندوی، ص: ۳۲۴۔۳۲۹

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago