شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید کرتے ہوئے انہیں ’سخت ترین حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اور پشتیبان‘ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ تیرہ فروری دوہزار پندرہ (23 ربیع الثانی 1436) کا آغاز قرآنی آیت: «مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا» [فتح: 29]، (محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے صحابہ کرام کی کامیابی کے راز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ آپ ﷺ کی پوری اطاعت کرتے تھے اور ان کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے۔ وہ سخت سے سخت حالات میں بھی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے؛ وہ ہرگز آپ ﷺ کو اکیلے چھوڑکر پیچھے نہیں ہٹ گئے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: صحابہ کا یہ عمل اللہ تعالی کو بہت پسند ہوا۔ بیعت رضوان کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر جان دینے اور ہر حال میں ان کے ساتھ رہنے کی بیعت کی۔ اللہ تعالی کو یہ عمل اتنا پسند ہوا کہ قرآن کریم میں قیامت تک ان سے رضامندی کا اعلان فرمایا۔
اللہ تعالی کی صحابہ سے رضامندی ان کی نیتوں سے واقفیت کے ساتھ ہوئی
مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے اپنے خطاب کے صحابہ کرام سے رضامندی کے اعلان کو ابدی اور ہمیشگی قرار دیتے ہوئے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ارشاد الہی ہے: ”فعلم ما فی قلوبہم“، اللہ تعالی کو ان کے دلوں کا علم تھا اور اہم نکتہ یہی ہے کہ اللہ رب العزت نے اس حال میں ان سے رضامندی کا اعلان فرمایا کہ ان کی نیات اور دلوں کی حقیقت سے واقف تھا۔ چنانچہ ان پر سکینہ نازل ہوا اور انہیں فتح قریب کی خوشخبری دی گئی۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی نے صحابہ کرام کے دلوں کا امتحان لیا اور پھر ان کی مقبولیت کا اعلان فرمایا؛ ’فامتحن اللہ قلوبہم للتقوی‘۔ تقوی ہی کی برکت سے دنیا بھر میں انہیں کامیابیاں نصیب ہوئیں اور اللہ تعالی نے انہیں دنیا پر فتح عطا کیا۔ صحابہ کرام کے دل تقوی و فرماں برداری سے موجزن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس فانی سے اس حال میں کوچ کرگئے کہ اپنے صحابہ سے رضامند تھے۔
کافروں سے سختی اور مسلمانوں سے نرمی صحابہ رضی اللہ عنہم کا اخلاق تھا
مولانا عبدالحمید نے صحابہ کرام کی اعلی صفات کی پیروی پر زور دیتے ہوئے کہا: صحابہ کرام ’رحماءبینہم و اشداءعلی الکفار‘ تھے؛ اپنے بھائیوں سے نرم اور کافروں سے سخت و تیز تھے۔ وہ کسی طاقت سے نہیں ڈرتے اور ہرگز کسی قوت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تھے۔ جنگوں میں بطور خاص کافروں سے سخت تھے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ بہت سارے مسلمان آج کل اپنے ہی بھائیوں سے تیز ہیں اور دشمنوں کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جب امریکا، یورپ، روس اور چین جیسے اسلام کے ازلی دشمنوں کا نام آتاہے تو بہت سارے مسلمان سرنڈر ہوتے ہیں اور اطاعت شعاری کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں۔ جب اپنے مسلمان بھائیوں سے ان کا واسطہ پڑتاہے تو ایک دوسرے کو سختی سے مارتے ہیں حالانکہ کفار سے ان کے تعلقات اچھے ہیں اور ان کی کوشش ہے ہرحال میں ان کی رضامندی حاصل کریں۔ صحابہ کرام اور اہل بیت کے نقش قدم پر چلنا ہے تو سختی کفار کے لیے چھوڑیں اور مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کریں۔ یہی مسلمانوں کا اخلاق و رویہ ہونا چاہیے۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: کم بخت مسلمان وہ ہے جو مغرب سے ہم آہنگی کی خاطر اجنبی ثقافتوں کو اپنے ہی ملکوں میں پھیلاتاہے اور فحاشی و عریانی کی ترویج کرتاہے۔ محض دعوے سے بندہ کامل مسلمان نہیں ہوتا، ایمان اور عمل صالح کی ضرورت ہے۔ ہماری زندگیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کی زندگیوں جیسی ہوں تاکہ ہم حقیقی مسلمان بن جائیں۔
انہوں نے مزیدکہا: بہت سارے مسلمان نماز نہیں پڑھتے ہیں، حالانکہ صحابہ کرام نماز کے بارے میں بہت سنجیدہ و حساس تھے۔ عبادات سے غفلت نہیں کرنی چاہیے جس طرح صحابہ کرام دن رات اللہ کی عبادت اور یاد میں مصروف رہتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت رحمت للعالمین اور معلم انسانیت کے ہاتھوں ہوئی جو براہ راست اللہ تعالی سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالی ان کی محبت سے ہمارے دلوں کو مالامال فرمادے۔
خطے میں بدامنی پھیلانا دشمنوں کے مفاد میں ہے
ممتاز ایرانی سنی عالم دین نے اپنے بیان کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان اور خطے میں بدامنی پیدا کرنے کو لوگوں کے مفاد کے خلاف اور ایران کے دشمنوں کے مفاد میں قرار دیا۔
مولانا عبدالحمید نے بدامنی پھیلانے والوں کو ’نادان اور دھوکہ کھانے والے‘ افراد یاد کرتے ہوئے کہا: جو لوگ دھماکہ خیز مواد لاتے ہیں اور دھماکہ کراتے ہیں انہیں معلوم نہیں ایسی حرکتوں سے عوام ہی نقصان سے دوچار ہوتے ہیں اور یہ ایران کے خلاف ہے۔ صوبے کو بدامن کرنا ملک و قوم کے مفادات کے سراسر خلاف ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: سب کو امن قائم کرنے اور سکون کی فضا پیدا کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ خطے اور صوبے کی ترقی امن کے سائے تلے ممکن ہے۔ بھائی چارہ امن کی حفاظت سے قائم رہ سکتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے حقوق کے حصول پر تاکید کرتے ہوئے کہا: ہمیں قانون اور باہمی گفت وشنید کی راہ سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ قتل اور تخریب کاری سے کامیابی نصیب ہوتی ہے نہ حقوق مل جاتے ہیں؛ الٹا عوام کے مسائل اور آلام میں اضافہ ہوتاہے۔
ہر قسم کی بدامنی کی مذمت کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: خطے میں بدامنی پیدا کرنے کی ہرصورت میں مذمت کرتے ہیں چاہے کسی بھی بہانے میں ہو۔ خطے میں دھماکہ خیز مواد، منشیات، شراب اور فساد وگناہ کے ہرقسم کے آلات نہیں لانا چاہیے۔ جو لوگ امن قائم کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیںہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے وزارت جوانان و کھیل کے ذمہ داروں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی محنتوں سے زاہدان شہر میں ایک بین الاقوامی مقابلہ ہوا جس میں دس ملک کے چیمپئنز نے حصہ لیا۔ ویسٹ ایشیا کے وشوو چیمپیئنز میں ایران کی نمایندگی سیستان بلوچستان نے کی جو تین گولڈمڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…