ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی فوجیوں کی سیکیورٹی میں بلڈوزروں نے العراقیب پر چڑھائی گھروں میں موجود مردوں کے کام کاج پر چلے جانے کے بعد کی، مویشیوں کی حفاظت کیلیے بنائے گئے شیلٹر بھی اسرائیلی فوجیوں نے مسمار کر دیے، صہیونی فوجیوں نے قصبے کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد کچے گھروں، خیموں اور شیلٹروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور مکانات کو گرانا شروع کردیا۔
دوسری جانب اسرائیل کی ایک جیل میں قید15فلسطینی مختلف بیماریوں اور اسرائیل جیل حکام کی مبینہ غفلت کے نتیجے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 1948 کے دوران اسرائیل کے قبضے میں چلے جانے والے گائوں کو مسمار کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ صہیونی فوج درجنوں بار اس بستی کو صفحہ ہستی سے مٹا چکی ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…