Categories: عالم اسلام

بن غازی:جنگجوؤں اور سرکاری فورسز میں جھڑپیں،16 ہلاک

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں اور حکومت نواز فورسز کے درمیان جھڑپوں میں سولہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مشرقی شہر میں لیبیا کی فوج کے اسپیشل گروپ اور سابق جنرل خلیفہ حفتر کی فورسز مختلف اسلامی جنگجو گروپوں کے خلاف اکتوبر سے نبردآزما ہیں اور انھوں نے ہوائی اڈے کے علاقے اور آرمی کیمپوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔تاہم اسلامی جنگجوؤں کا بن غازی کی بندرگاہ اور رہائشی علاقے لیثی پر کنٹرول برقرار ہے۔
خلیفہ حفتر کی فورسز کے ایک سینیر افسر فضل الحاسی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حکومت نواز فورسز نے لیثی کے علاقے کی جانب پیش قدمی کی ہے۔بن غازی کے ایک اسپتال کے ذریعے نے بتایا کہ ان کے پاس سات لاشوں اور پینتیس زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ علاقے میں ابھی لڑائی جاری ہے۔
بن غازی کے الجالا اسپتال میں چار نعشیں اور پینتیس زخمی لائے گئے ہیں۔میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق خلیفہ حفتر اور حکومت نواز فورسز سے ہے۔اسلامی ملیشیائیں عام طور پر اپنی ہلاکتوں کی اطلاع نہیں دیتی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بن غازی کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں متحارب فورسز کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔بن غازی میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا کا کہنا ہے کہ خلیفہ حفتر مصر کی مدد سے رہائشی علاقوں پر لڑاکا طیاروں اور توپ خانے سے بمباری کررہے ہیں لیکن ان دونوں نے اس کی تردید کی ہے۔
اس شہر کے مشرق میں واقع اسلامی جنگجوؤں کے مضبوط گڑھ درنہ میں پانچ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک فوجی ترجمان نے بتایا ہے کہ درنہ کے مغرب میں واقع نواحی علاقے دہرالاحمر میں مسلح افراد نے فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا۔
جنرل خلیفہ حفتر نے دسمبر کے اوائل میں بن غازی پر مکمل قبضے کے لیے دوہفتے اور دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول کے لیے خود کو تین ماہ کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن وہ ابھی تک اپنے اس مشن میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔وہ لیبیا کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وزیراعظم عبداللہ الثنی اور ان کی پارلیمان کے اتحادی ہیں۔انھیں سرکاری فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔
سابق لیبی جنرل اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر کی کم سے کم بن غازی میں واپسی چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے اور حکومت بھی اسی شہر سے کام کررہی ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسندوں کی حکومت قائم ہے اور انھوں نے سوموار کو ایک نئی انتظامیہ تشکیل دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago