وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کو تین سالوں سے حاصل سرکاری سیکورٹی حال ہی میں واپس لے لی گئی ہے۔
اتوار کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے گفتگو میں چوہدری نثار نے بتایا کہ مولانا کو 2011 سے سرکاری سیکورٹی فراہم تھی۔
چوہدری نثار نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے باقاعدہ خطیب نہیں۔
خیال رہے کہ مولانا عبدالعزیز سرکاری مسجد سے ریاست کے خلاف لاؤڈ سپیکر کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں ۔
چوہدری نثار نے مزید بتایا کہ مشرف دور میں عزیز کے ایک قریبی عزیز کو مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا تھا۔
جب چوہدری نثار کی توجہ لال مسجد سے باہر آنے والی دھمکیوں کی جانب دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان میں رہتے ہوئے ریاست کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت مشرف پالیسی پر عمل نہیں کرے گی اور اس طرح کے عناصر سے ایک طے شدہ حکمت عملی کے ذریعے نمٹا جائے گا۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ 90 فیصد مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور سارے مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی مدرسوں کے زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور فنڈنگ کے حوالے سے سوالات موجود ہیں لیکن زیادہ تر مدرسے پاکستان اور اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں سے ‘تعلق’ رکھنے والے مدرسوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے پورے ملک میں انٹلی جنس معلومات کی بنیاد پر چار ہزار چھاپے مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان چھاپوں میں کئی دہشت گرد اور ان کے ہمدرد گرفتار ہوئے۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…