اطلاعات کے مطابق النصرہ فرنٹ کے جنگجوئوں نے الزھراہ ٹائون کے قریب متمرکز شامی فوج کے مختلف ٹھکانوں پر بارود سے بھری گاڑیوں سے حملے کیے ہیں جس کے بعد فریقین میں ایک دوسرے کے خلاف بھاری اوردرمیانے درجے کے ہتھیاروں سے حملے جاری ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ النصرہ فرنٹ کے جنگجوئوں نے شمالی حلب میں صدر بشارالاسد کے اہم مرکز الزھراقصبے کے جنوب اور مشرقی اطراف سے حملے کیے جس کے بعد سرکاری فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کار بم دھماکوں اور اندھا دھند گولہ بارے کے نتیجے میں اسدی فوج کے دسیوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکوں کے بعد النصرہ فرنٹ کی طرف کافی پیش قدمی کرلی ہے تاہم سرکاری فوج کے دفاع کے لیے صدر بشارالاسد کی فضائیہ کے جنگی طیارے بھی فرنٹ کے جنگجوئوں پربمباری کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید