دولتِ اسلامیہ نے کم از کم چار خودکش حملے کیے جس میں اطلاعات کے مطابق کم سے کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پہلا حملہ سنیچر کی صبح ترکی کی سرحد پر آر پار جانے کے راستے کے قریب ہوا۔ یہ علاقے میں تازہ لڑائی کے چھڑ جانے کا پہلا واقعہ ہے۔ کرد ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار ترکی جانب سے آیا لیکن ترک حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔
خودکش حملے کے بعد وہاں اور قصبے کے جنوب مغربی علاقے میں کرد سکیورٹی فورسز اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ تین مزید خودکش حملے کیے گئے، ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اْڑایا جبکہ دو خودکش حملے گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق لڑائی میں جیسے ہی تیزے آئی دولتِ اسلامیہ جنگجوؤں کی مدد کے لیے ٹینک بھی لائے آئے گئے۔ دریں اثنا امریکہ نے کوبانی کے مشرقی علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر دو فضائی حملے کیے۔
دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ دو مہینوں سے جاری لڑائی کے دوران کوبانی کے بعض حصوں اور اس کے ارد گرد درجنوں دیہات پر کنٹرول حاصل کیا ہے لیکن اسے مقامی کرد فورسز کی جانب سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کرد فورسز کو معمولی تعداد میں شامی عربوں اور عراقی کردوں کی مدد بھی حاصل ہے جبکہ امریکہ بھی فضائی حملوں کے ذریعے ان کی مدد کر رہا ہے۔
کوبانی میں لڑائی کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک اور تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ترکی میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے۔
امریکی کی سربراہی میں اتحادی فورسز کی فضائیہ کرد فورسز کی مدد کرتی ہے جو کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ترکی نے عراق سے تعلق رکھنے والے بعض کرد جنگجوؤں کو ترک علاقے سے گزر کر کوبانی میں کرد سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے کے لیے جانے کی اجازت دی ہے۔
خیال رہے کہ شام و عراق کے وسیع علاقے پر دولت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…