مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ترک سماجی اور ثقافتی تنظیم ’’میراثنا‘‘ [ہماری میراث] کے زیراہتمام کانفرنس کے لیے 23 نومبر کا اعلان کیا گیا ہے۔
عالمی کانفرنس کی میزبان ترک تنظیم کےچیئرمین محمد دمیرجی نے استنبول میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قبلہ اول کا دفاع زیادہ ناگزیر اور انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے۔ اسرائیل نے قبلہ اول کو تقسیم کرنے کی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔ اسرائیل نے مسجدا قصیٰ پر سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ اس میں مسلمان نمازیوں کے داخلے پرپابندی عاید کیی گئی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی ایک نہایت خطرناک رحجان ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمود دمیرجی نے کہا کہ وہ تئیس نومبر کو ہونے والی کانفرنس میں قبلہ اول کے دفاع کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ شخصیات کی شرکت یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہمیں ہر صورت میں قبلہ اول کا دفاع کرنا اور اس کی تقسیم کی صہیونی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید