ایران کے سرکاری ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تینوں صیہونی فوج کے اس دستے میں شامل تھے جس نے غزہ پر مسلط کردہ صیہونی حکومت کی حالیہ جنگ کے دوران فلسطینیوں پر شدید ترین تشدد کیا تھا۔ صیہونی حکومت نے 8 جولائی 2014ء سے غزہ پٹی پر اپنے حملے کا آغاز کیا تھا اور یہ حملے پچاس دنوں تک جاری رہے تھے۔ پچاس دنوں کے بعد 26 اگست 2014ء کو فلسطینی گروہوں نے قاہرہ میں صیہونی حکومت کے ساتھ جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان جنگ ختم ہو گئی لیکن صیہونی فوجیوں نے غزہ خصوصا عام شہریوں پر جو تشدد روا رکھا اس کے منفی نتائج ابھی تک صیہونی فوجی بھگت رہے ہیں۔ اسرائیل کے ٹی وی چینل نمبر دس نے رپورٹ دی ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم ازکم تین صیہونی فوجیوں نے خود کشی کر لی ہے۔ یہ وہ فوجی تھے جنھوں نے جنگ غزہ میں شرکت کی تھی۔ خبری ذرائع نے کہا ہے کہ یہ فوجی اس دستے میں شامل تھے جو غزہ پر بہیمانہ حملوں اور تشدد ڈھانے کے سلسلے میں شہرت رکھتا ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملوں کا ایک منفی نتیجہ فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے کے نفسیاتی مسائل پیدا ہونے کی صورت میں سانے آیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنگوں میں تشدد کی حد اور فوجیوں کی خودکشی کے اعداد و شمار کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار میں لبنان کی استقامت سے شکست کھانے کے بعد صیہونی فوجیوں کے درمیان خودکشی کا رجحان پیدا ہوا۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…