فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں ایک مختصر دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں پیش کار نے اس عمل پر روشنی ڈالی جس سے گزر کر اس عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ عدالت کے سربراہ نے بتایا کہ عدالتی کارروائی ایک لاکھ ساٹھ ہزار دستاویز پر مشتمل ہے۔
قاہرہ کی ایک عدالت نے حسنی مبارک کو 2011 میں ان کی اقتدار سے بے دخلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے قتل کا قصور وار پایا تھا اور بعد میں انہیں اور ان کے وزیر داخلہ حبیب العدلی کو 2012 میں سزا سنائی تھی۔
تاہم سزا پانے کے بعد فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی تھی اور اپیل پر عدالتی کارروائی 2013 میں شروع کر دی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپیل کی سماعت کے دوران کئی گواہوں نے اپنے بیانات تبدیل کر لیے ہیں۔ اسی عدالت نے ایک مرتبہ حسنی مبارک کو تقریر کا موقع دیا گیا تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں اور اپنی تیس سالہ حکمرانی کا دفاع کر سکیں۔
عدالت میں حسنی مبارک نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی مصر کا دفاع کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نےاپنے دور میں انسانی حقوق کی بہتری اور انسانی جان کے تحفظ کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ واضح رہے حسنی مبارک کے بیٹے علاء اور جمال مبارک بھی چار چار سال قید سزابھگت رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
اسرائیلی محاصرے کے باعث مغربی کنارے میں 80,000 فلسطینی طلبہ اسکول جانے سے محروم
امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔