اللہ کی قدرت اور نبوت محمدی کا اعجاز دیکھئے کہ محمد رسول اللہ کی نبوت کے 32 سال مختصر عرصہ میں ذات نبوی علی صاحبہا السلام پر ان سارے حالات و کیفیات کا گذر ہوگیا جن سے قیامت تک کسی انسان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ فتح و شکست، غربت و امیری، شادی و گدائی، خوشی و مسرت، غم و اندوہ، اقبال و ادبار، عزت و بے عزتی، غلبہ و مغلوبیت، سفر و حضر، تجارت و مزدوری، شادی و غمی۔۔۔ غرض وہ کون سی حالت ہے جو آپ پر نہ آئی ہو اور اس سلسلے میں آپ کا سنہرا نمونہ نہ ملتا ہو۔ آپ باپ بھی بنے شوہر بھی بنے، آپ نے رشتہ داریاں بھی کیں، تعلقات قائم کئے اور مجبورا توڑے بھی، آپ نے معاہدے کیے، آپ کو دھوکہ بھی دیا گیا اور آپ کے اوپر چھوٹے الزام بھی لگائے گئے، آپ کو نفاق کے موذی مرض کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کو ایسے وفادار دوست بھی ملے جنہوں نے مہر و وفا کے بے نظیر نقوش صفحہ تاریخ پر ثبت کیے۔۔۔ ایک عاشق رسول نے اس جامعیت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے:
’’عجب دربار!! سلاطین کہتے ہیں: شادی دربار تھا کہ فوج تھی، علم تھا، پولیس تھی، جلاد تھے، محتسب تھے، گورنر تھے، کلکٹر تھے، منصف تھے، ضبط تھا، قانون تھا۔ مولوی کہتے ہیں: مدرسہ تھا کہ درس تھا، وعظ، افتا تھا، قضا تھا، تصنیف تھی، تالیف تھی، محراب تھی، منبر تھا۔ صوفی کہتے ہیں: خانقاہ تھی کہ دعا تھی، جھاڑ تھا، پھونک تھا، ورد تھا، وظیفہ تھا، شغل تھا،۔۔۔ (چلہ) تھا، گریہ تھا، بکا تھا، حال تھا، کشف تھا، کرامت تھی، فقر تھا، فاقہ تھا، زہد تھا، قناعت تھی،۔۔۔۔ مگر سچ یہ ہے کہ وہ سب کچھ تھا، کیوں کہ وہ سب کے لیے آیا تھا، آئندہ جس کو چلنا تھا، جہاں کہیں چلنا تھا، جس زمانہ میں چلنا تھا اسی کی روشنی میں چلنا تھا۔‘‘ (النبی الخاتم ص:101)
نبوت: انسانیت کی بنیادی ضرورت
سیرت رسول کے مطالعے اور اس کی نگارش کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے ہر فقرے اور ہر مرحلے پر یہ بات ظاہر ہو کہ یہ ایک نبیِ ہادی صلی اللہ علیہ سلم کی سیرت ہے، اس مطالعے میں ہر وقت یہ شعور تازہ رہنا چاہئے کہ انسانیت کو نبوت کی کتنی اور کیونکر ضرورت ہے؟۔
انسان کے پاس جو حواس ہیں اور علم کے جو ذرائع ہیں وہ اس کہ یہ نہیں بتلا سکتے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں؟ اس کا اپنی مخلوق سے کس قسم کا رشتہ ہے؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے؟ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ اس عالم زندگی کا کیا انجام ہے؟۔۔۔۔ اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے براہ راست ان سارے سوالوں کے جواب لے کر آتا ہے۔ انسانوں کو اندر فتنہ و فساد کی جو فطری خرابیاں رکھی فئی ہیں۔ اور جو انسانی زندگی کو لگاتار مبتلائے آزمائش رکھتی ہیں، اخلاق کو تباہ کرتی، آبادیوں کو اجاڑتی، تمدنوں کے فساد کا باعث ہوتی اور نفرت و ہوس کی آگ بھڑکاتی ہیں، ان خرابیوں کی اصلاح کا صحیح اور کامیاب طریقہ اس علم و یقین کے ذریعہ ہے اور اس نسخے سے ہی ممکن ہے جو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔
سیرت کے مطالعے اور اس کی نگارش کے وقت نبوت اور کار نبوت کی اہمیت اور انسانیت کی اس کے سامنے محتاجی کا اعلان ہونا چاہئے، سیرت کو اس طور پر دیکھا جائے اور پیش کیا جائے کہ وہ اس عالم گیر فساد کا تریاق ہے جس نے انسان کو خدا کی رحمت سے دور اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکا رکھا ہے۔ یہ بھی پیش نظر آتا رہے کہ کس طرح سارے علم و ہنر کی ترقیوں اور وسائل کی بہتات کے با وجود معاصر دنیا کی عقلیں عالمی جاہلیت عظمی کے علاج، اور اس کے فساد کے انسداد میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر متفکر نہیں، مگر اس کے باوجود وہ جاہلیت کی یلغار کے سامنے ایک ایک کرکے مورچے ہار رہی ہیں، اور ایک ایک کرکے ظلم و فساد کو اخلاق جواز عطا کرتی جارہی ہیں۔
اصلاح کی شاہ کلید
سیرت نبوی کا ایک اہم باب یہ بھی ہونا چاہئے کہ انسانی بگاڑ کے علاج کی وہ کون سی شاہ کلید تھی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا؟ جس سے سارے عقدے کھلتے چلے گئے۔
انبیاء علیہم السلام انسان کے علم و ارادے کو شر سے موڑ کر خیر کی طرف لگاتے ہیں۔ وہ اس میں بھلائی کی محبت اور طلب پیدا کرتے ہیں۔ اپنی جماعت کے اندر وہ یہ احساس پیدا کریتے ہیں کہ دنیا میں بھلائی اور نیکی کو فروغ دینا انکا فرض منصبی ہے۔ انسان کے اندر غیر معمولی صلاحتیں ہیں، مگر ہوس و طمع اور شیطان ان کو صرف ظلم و شر اور نفسانیت کی طرف لے کر چلتے ہیں، یہ انبیاء کا کارنامہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے اندر خداطلبی کا وہ ذوق پیدا کرتے ہیں کہ ان کے لیے بھلائی کے راستے کی مشکلات آسان ہی نہیں لذیذ ہوجاتی ہیں، سیرت نبوی کا یہ عظیم ترین کارنامہ ہے اس کے بغیر ہم کسی بھی مطالعے کو مکمل نہیں کہہ سکتے۔
نبی کا پیغام و دعوت
سیرت نبوی کو محض روایتی تاریخی پس منظر میں دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو واقعات و حوادث کا بیان سمجھ لیا جاتا ہے، جس میں خوش عقیدگی کے روغن کا اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں بقول بعض معاصر علماء کے وہ ’واقعات کی کھتونی‘ بن کر رہ گئی ہے، حالانکہ نبی کی سیرت کی اصل اہمیت اس کی ہدایت و رہنمائی اور اس پیغام کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے لیے وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے، اسی کو وہ اپنی زندگی کا مشن بلکہ اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے، اسی کا فروغ اس کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے، سیرت کے مطالعے کے وقت فوکس اور توجہ اگر اس مشن اور پیغام سے ہٹی اور وہ کہیں پس منظر میں چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی ورق گردانی بن کر رہ جائے گا، محمدرسول اللہ کے سیرت نگار کو حیات طیبہ کو اس طرح پیش کرنا چاہئے کہ اس کا سب سے نمایان اور اہم عنصر ’’رسالت و نبوت‘‘ اور اس کی دعوت و پیغام کے تمام پہلو بھی اپنی عظمت و رعنائی اور معجزانہ شان کے ساتھ سامنے آجائیں۔
اسوہ حسنہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رسول، اللہ کے دین اور اس کے پیغام کے مبلغ بھی ہیں، اور انسانوں کے لیے کامل اور حسین ترین نمونہ بھی، آپ کی ذات اپنے اخلاق و صفات، مزاج و کردار، عادات و معاملات، تمناؤں اور جذبات ہر چیز میں عملی نمونہ ہے، آپ کی شب روز کی زندگی کے بغیر اور آپ کے اعمال و اخلاق کے بغیر بحیثیت رسول آپ کی سیرت نامکمل ہی رہے گی۔
یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ ہماری روایتی سیرت نگاری میں آپ کے خِلقی اوصاف کے بیان پر جو توجہ ہوتی ہے آپ کے اسوہ کے بیان پر اس سے بہت کم توجہ ہوتی ہے، دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی حقیقت بینی اور بلندیِ ذوق ملاحظہ ہو کہ روایات کے ذخیرہ میں آپ کے دین اور پیغام اور اسوہ حسنہ پر بلا مبالغہ ہزارہا ہزار روایت ہیں اور آپ کی خِلقی کیفیت پر روایت گنتی کی چند۔ سیرت نگاری نے اخیر زمانوں میں کافی ترقی کی ہے، اور اب اسوہ حسنہ کا ایک اہم جز بنتا جارہا ہے، مگر اس کو ابھی مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
نبوی مزاج کی خصوصیت
انبیاء علیھم السلام اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آتے ہیں وہ محض خشک الفاظ کے سانچوں میں ڈھلا ہوا نہیں آتا، ایسا نہیں ہوتا کہ ان کو صرف واجبات و فرائض اور اوامر و نواہی کی ایک فہرست دے دی جائے، بلکہ اللہ تعالی ان کو کتاب و شریعت کے الفاظ کے ساتھ اس کی روح و مزاج کیفیات و احساسات، اور جذبات کی آئینہ دار زندگی کے ساتھ بھیجتے ہیں، یہ زندگی خود ان انبیاء کی ہوتی ہے جو اس دین و شریعت کی اتنی صاف اور مفصل تشریح کرتی ہے کہ ان کا ہر پہلو اس کے آئینے میں مجلّیٰ ہوجاتا ہے۔
سیدنا محمدرسول اللہ کی زندگی نبوی مزاج کا آئینہ اور ان جذبات و کیفیات کا مجموعہ ہے جو براہ راست نبوت کا خاص مقصود ہیں۔ اللہ تعالی نے جس طرح آخری دین کے اوامر و نواہی کو بحافظت ہم تک پہنچایا ہے اسی طرح اس نے ان کیفیات کو بھی ہم تک بحفاظت پہنچایا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ان کیفیات کا رنگ اس طرح چھایا ہوا تھا کہ اگر سیرت نگار نے یا سیرت کا مطالعہ کرنے والے نے اس رنگ کو چھوڑدیا تو سیرت کے صحیح خد و خال اور اس کی اسپرٹ اور روح سامنے نہیں آسکتے اور نہ مطالعہ سیرت کا اصل مقصود پورا ہوسکتا ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کیفیات کے جلی عناوین ہیں: خدا طلبی و تعلق مع اللہ، اللہ سے محبت اور اسکا خوف، اس پر توکل یقین، عشق و سرافگندگی، خدا مستی و بے خودی، عبودیت و تذلل، آخرت کا استحضار و یقین، زہد و استغنا، مخلوق خدا پر شفقت و رحمت، دلسوزی و دردمندی، دین پر عزیمت و استقامت، اسکی راہ میں جد و جہد و جانبازی۔۔۔۔
شاید یہ کہنا غلط ہو کہ ذات نبوی کی یہ ربانی کیفیات سیرت نگاری کی بہت سی کوششوں میں واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے رسول اللہ کی سیرت کسی دوسری قوم مصلح و قائد کی سیرت سے زیادہ مختلف نہیں رہتی، وہ اس سے متاثر ہوسکتا ہے، عقیدت کا اظہار بھی کرسکتا ہے، مگر اس کے دل میں وہ ایمان پیدا نہیں ہوسکتا جو مطالعہ سیرت کا گوہر مقصود ہے۔
تعبیرات و اصلاحات کی نزاکتیں
انسانی عقل و خرد اپنے ماحول اور تجربات کی روشنی میں پیغام رسانی کے لیے نئی نئی تعبیرات و اصطلاحات اختیار کرتی ہیں۔ یہ اصطلاحات جس ماحول میں پیدا ہوتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں اپنے ساتھ وہ انکے اثرات جرور رکھتی ہیں۔ کسی طرح وہ اپنے پس منظر سے آزاد نہیں ہوسکتیں۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانوں میں اور ان سے پہلے دنیا میں مختلف اصلاحی اور فکری تحریکیں قائم ہوچکی تھیں، الگ الگ قسم کے اخلاقی اور الہٰیاتی فلسفے تھے، جنہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں سکّہ جمایا تھا، مگر قرآن مجید کا مطالعہ بتاتھا ہے کہ انہوں نے اپنے دین کی حقائق کی تشریح اور اپنی دعوت کے لیے ان اصطلاحات اور تعبیرات کو مستعار لینا اور ان سے کام چلانا کبھی گوارہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے ان کو اپنی پیغام رسانی کے لیے نہایت سادہ اور حقائق پر مبنی الگ اصطلاحات اور منفرد تعبیرات اللہ کی طرف سے دی گئی تھیں۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت کے علاوہ حکمت و فلسفہ یونان و ہند اور فارس و مصر و روما پر چھائے ہوئے تھے، ہر ذہین آدمی ان سے متاثر ضرور تھا۔ مگر نبوت محمدی نے انسانی زندگی کی پیچیدہ گتھیوں کے کھولنے اور انسان کے لیے صحیح اور متوازن طرز زندگی کی تشریح میں ایمان، احسان، تزکیہ، عبادت، تقوی، خشیت، آخرت، رسالت، نبوت، وحی، علم، عدل، انصاف، مواسات و ہمدردی اور اخلاق جیسی اصطلاحات استعمال کیں۔
رسول اللہ کی سیرت اور آپ کے پیغام کی تشریح کے لئے نہ قدیم فلسفی و اجتماعی اصطلاحات موزوں تھیں اور نہ عصر حاضر کے ازموں اور سیاسی و اجتماعی تحریکوں کی اصطلاحات۔ ماضی قریب اور معاصر لٹریچر میں سیرت نبوی کے سلسلے میں جہوریت، اشتراکیت اور سوشلزم و غیرہ کی اصطلاحات بعض لوگوں نے فراخ دلی کے ساتھ استعمال کی ہیں۔ ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی نیا ازم یا فلسفہ دنیا پر فیشن کی طرح چھا جاتا ہے، پھر جب وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے انتشار و عدم توازن اور انفرادی و اجتماعی مسائل کو مزید بڑھا کر رخصت ہوتا ہے تو کوئی نیا ازم دنیا پر مسلط کردیا جاتا ہے، اور اس کا ایسا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے سارے مسائل کا حل اسی میں نظر آنے لگتا ہے۔ اس فضا سے ہم بھی متاثر ہوجاتے ہیں، کسی کو رسول اللہ کو دعوت میں جمہوریت کی صدا سنائی دینے لگتی ہے، تو کوئی اس کو ایک موزوں اشتراکی تحریک کہنے لگتا ہے، کوئی سوشلسٹ اصطلاحات میں رسول اللہ کی اقتصادی اصطلاحات بیان کرتا ہے، تو کوئی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو اشرافیہ کے اقتدار اور ملوکیت کے خلاف قومی بغاوت کا نام دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض مستند علماء بھی جو سیرت کا اس کے اصل تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جمہوری لیڈر اور آپ کی اصلاحات کو جمہوری یا سوشلسٹ اصلاحات کہہ جاتے ہیں۔
انصاف کی بات یہ ہے کہ ان تعبیرات کا پیرہن، نبوی پیغام کے لیے قطعا ناموزوں ہے، انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے ’دین‘ لے کر آتے ہیں۔ ان کا کام انداز و تشبیر ہوتا ہے، ہدایت و تزکیہ ان کا طریقہ کار اور انسانوں کو اپنے خدا سے جوڑنا اور اس کی رحمتوں سے فیضیاب کرنا ان کا مشن ہوتا ہے، ان کا پیغام نہ کسی فاسد تمدن کا رد عمل ہوتا ہے، اور نہ کسی ظالم اقتصادی و سیاسی نظام کے خلاف عوامی جذبے کا اظہار، وہ صرف وحی و نبوت کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اس کے لیے یہی تعبیرات زیادہ صحیح اور موزوں ہیں۔
حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت طیبہ کے بیان اور آپ کے پیغام کی تعبیر و تشریح میں نہایت احتیاط کرنی چاہیے، اور اس کے لیے وہی اصطلاحات و تعبیرات باقی رکھنی چاہییں جو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں اور آپ کو سب سے زیادہ جاننے اور سمجھے والے صحابہ کرام نے استعمال کی ہیں، نیز سیرت طیبہ کے بیان جو عمومی رنگ اور فضا ہو وہ اسی رنگ اور فضا سے بالکل ہم آہنگ ہونی چاہیے جس کا قرآن اور حدیث رسول کا گہرا مطالعہ کرنے والا مشاہدہ کرتا ہے۔
قدیم سرمایہ سیرت پر ایک نظر
جامع متوازن سیرت نگاری اور تجزیاتی مطالعے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس سیرت پر جو مواد موجود ہے اس کی نوعیت پر نظر ہو، یہ بھی معلوم ہو کہ کی عہد میں اس فن کی داغ بیل پڑی؟ وہ کس ماحول میں تیار ہوا؟ جس زمانے میں وہ پروان چڑھا اس کے رجحانات کیا تھے؟ یہ بھی تفصیل سے معلوم ہو کہ اس سرمایے کے اپنے مآخذ کیاہیں؟ ان کی استنادی حیثیت اور مرتبہ کیا ہے؟ اور اس کی جانچ پر کھ کے کیا اصول ہیں؟
جہاں تک سیرت کے مآخذ کی درجہ بندی اور ان کے تاریخی و روایتی استناد کا تعلق ہے، یہ ایک بات طویل موضوع ہے۔ ہندوستانی مؤلفین میں علامہ شبلی اور ان کے بعد کے کئی محققین نے اپنی کتب سیرت کے مقدموں میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے، بہت کم ہی ضروری مباحث ایسے ہیں جو ان کے یہاں نہیں ملتے، لہذا اس سرمایے سے متعلق کچھ متفرق ضروری باتیں عرض کی جارہی ہیں۔
1۔ یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ اولین سیرت نگاروں نے وسیع معنی میں سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ اپنا مقصود نہیں بنایا تھا، ان کی توجہ کا اصل مرکز یہ چند پہلو تھے: 1) رسول اکرم کی قبل بعثت زندگی خاص طور پر خاندانی پس منظر، ولادت، و رضاعت و غیرہ۔ 2) بعثت کے بعد کے اہم واقعات و حوادث، خاص طور پر مکی معاشرے کی سیاسی صورت حال۔ 3) مدنی عہد میں خاص طور پر غزوات و سرایا اور سیاسی آویزشیں، اس صورت حاک کا اندازی کرنے کے لیے صرف اس بات پر غور کرنا کافی ہوگا کہ فن سیرت کا نام ’’علم السیرۃ‘‘ کے بجائے ’’علم المغازی‘‘ رکھا گیا۔ شاید بلکہ غالبا اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان حضرات نے ان پہلووں کو خاص طور محفوظ کرنا چاہا جن کو محدثین کرام اپنے موضوع بحث سے کسی حد تک خارج سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے جمع و تدوین اور بحث و تحقیق کے دائرے میں صرف آں حضرت کے تشریعی ارشادات، احکام و قضایا، مواعظ و خطبات اور سنن و فرائض کی ادائیگی کے طریقے اور حقائق دین و ایمان سے متعلق روایات کو ہی رکھا تھاْ
ابن اسحاق دوسری صدی میں اپنی مغازی ترتیب دے چکے تھے، موسی بن عقبہ بھی ان کے ہم عصر تھے، انہوں نے اس فن کی طرح جن بنیادوں پر ڈالی وہ اسی پر قائم رہا، ابن سعد اور طبری جیسے مورخین نے بھی عہد نبوی کی تاریخ کے لیے ان ہی بنیادوں کو استعمال کیا، ابن قیم کی زادالمعاد اور چند دوسری کوششوں کے استثناء کے ساتھ فن سیرت جدید دور (یعنی چودھویں صدی ہجری) سے پہلے ان خطوط پر ہی اپنا سفر طے کرتا رہا، محدثین کے حلقے نے اس پر شمائل اور دلائل نبوت کا اضافہ بھی کیا۔
2۔ سیرت و تاریخ اسلام کی روایات جس زمانے میں جمع و تدوین کے مرحلوں سے گذر کر کتابی اور مرتب علمی انداز میں محفوظ کی جانے لگیں، یہ وہ زمانہ ہے جب امویوں کی شمشیر خار اشگاف نے چہار دانگ عالم میں تہلکہ مچا رکھا ہے، اور غلبہ و اظہار دین کا خدائی وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ اس فضا کا اثر تھا یا روایتی تاریخ نویسی کا قدیم انداز کہ سیرت نگاری پر ’’مغازی‘‘ کی فضا چھا گئی، اگر آپ سیر و تاریخ کے مآخذ دیکھیں اور حدیث و سنت کے ذخیروں سے اسلام کے روحانی اصلاحی اور اخلاقی کارناموں کو جمع نہ کریں تو یہ رسول اللہ کی نہایت نامکمل سیرت ہوگی، جس میں آپ ایک تحریک کے بانی، ایک فاتح، یا ایک مصلح اور فرمانروا زیادہ نظر آئیں گے، ایک نبی و صاحب وحی اور مکمل بشری نمونہ کی تصویر کم بنے گی، آپ کو پورا عہد مدنی غزوات کے اردگرد طواف کرتا نظر آئے گا، اور عہد مکی کی اتنی کم تفصیلات ملیں گی کہ بے اختیار تاریخی مآخذ کی تنگ دامانی کا شکوہ کرنے کو دل چاہے گا۔
فن سیرت کے قدیم مآخذ پر ’’مغازی‘‘ کی چھائی ہوئی فضا کو اور اس عہد کے عمومی ماحول کو سامنے ضرور رکھنا چاہئے، اور کوشش کرنی چاہیے کہ اصل واقعہ اور اس ماحول کے زیر اثر کی گئی اس کی تشریح و توضیح جو راوی اور مورّخ خود کرتا ہے دونوں کے درمیان فرق کیا جائے۔
3۔ فن حدیث اور فن سیرت کی روایات کے درمیان ایک اہم فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے، علماء اسلام نے حدیث کو براہ راست دین کا حصہ اور وحی ربانی سمجھ کر جمع کیا، اور اس کے لیے وہی احتیاط برتی جو اس کا حق تھی۔ احتیاط کے پیش نظر ایک ایک روایت کو الگ الگ بیان کیا، ان کے درمیان تاریخی یا فنی ترتیب و تسلسل قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بیان میں کم ازکم اپنے فہم و فکر کو اثر انداز ہونے کا موقعہ دیا، جو راوی نے خود سنا وہ بیان کیا، اپنی طرف سے اسباب و علل کے بیان سے پرہیز کیا۔ پھر اس فن کے ناقدوں نے اس کو دسیوں کسوٹیوں پر پرکھا، داخلی و خارجی ذرائع استعمال کیے، اصل واقعے کے بیان میں کہیں کسی سے کوئی تسامح ہوا تو اس کو بھی پکڑا، راوی نے کہیں تشریح و توضیح کے طور پر اپنی طرف سے کوئی بات شامل کردی تھی (جس کو محدثین کی اصطلاح میں ادراج کہتے ہیں) تو اس کو مختلف روایات کے مطالعے کے ذریعہ اس کو بھی الگ کیا۔۔۔۔ اس کے برخلاف سیرت و تاریخ کی روایات میں ایسا نہیں ہوسکا، ابتدائی سیرت نگاروں نے تاریخی تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے الگ الگ روایات کو باہم ملایا بھی، اپنے قیاس سے اس کی تفسیر اور اسباب و محرکات بھی بیان کیے۔ ظاہر بات ہے علماء اسلام کے نزدیک تاریخی واقعات کی وہ اہمیت نہیں تھی جو ان کی شریعت اور دینی واجبات کی تھی، اس لیے سرمایہ کو فن حدیث کے ’’صرّافوں‘‘ نے اپنے سخت معیاروں پر جانچا بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ روایات و اخبار جو محدثین کی کتابوں میں تاریخ و سیرت سے متعلق موجود ہیں، خود محدثین نے ان کی اس طرح جانچ پر کھ نہیں کی ہے جس طرح وہ احکام شریعت کی روایات کی کیا کرتے تھے۔ ہمارے سرمایہ حدیث میں احکام کی روایات پر ناقدین حدیث نے نقد و تحقیق کے اصول زیادہ سختی سے برتے اور باریک بینی سے استعمال کیے ہیں، دیگر روایات میں انہوں نے اتنی باریک بینی سے کام نہیں لیا، اس لیے یہ بات ظاہر ہے کہ دونوں کا درجہ ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔
4۔ مسلمانوں نے روایات حدیث و تاریخ کی تنقید کے لیے جو منفرد نظام ایجاد کیا وہ بجا طور پر ان کی علمی تاریخ کا ایک درّ بے بہا اور قابل صد فخر کارنامہ ہے، جس سے ممکنہ حدتک کسی تاریخی روایت کی جانچ کی جاسکتی ہے، اور اس کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ عام طور پر یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ سیرت نبوی کی روایات کی جانچ ان اصولوں پر نہیں کی جاسکتی۔ عموما اس کی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ یہ اصول نہایت سخت ہیں، اور ان کی معقولیت و افادیت فن حدیث میں اس لیے تھی کہ اس پر عقائد و ایمانیات اور حلال و حرام کا دار و مدار تھا، سیرت نبوی تو محض تاریخی واقعات و حوادث کے قسم کی چیز ہے، اس لیے اس کی روایات کو اتنے سخت اصولوں پر کسنے کی ضرورت نہیں۔
لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو صورت حال اس سے مختلف نظر آئے گی، سیرت نبوی کا تعلق براہ راست ہمارے مرکز ایمان یعنی رسول اللہ کی ذات سے ہے، سیرت ہمارے لیے گویا وہی مقام رکھتی ہے جو ابتدائے اسلام کے لوگوں کے لیے ذات نبوی کا تھا، سیرت پوری کی پوری دین ہے، اس میں کمزور روایتیں قدم قدم پر ہماری عقیدت کا امتحان لیں گی۔
ہاں! جو روایتیں خالص تاریخی نوعیت کی ہیں تو ان کو واقعات کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اور اس عہد کی تصویر کو مکمل کرنے کے لیے ضرور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ روایتیں اسلام کے ان اصولوں سے کسی درجہ میں بھی نہ ٹکرائیں جو قرآن اور قوی ترین روایتوں سے ثابت ہوتے ہیں، ان روایتوں کا لازمی طور پر اس معجزانہ حد تک کے پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے جس کا رسول اسلام حامل تھا اور جس کی یقینی گواہی صحیح کتب حدیث کا ایک ایک صفحہ دیتا ہے۔
5۔ شاید یہ خیال بھی زیادہ صحیح نہیں کہ کتب حدیث کے ذخیرہ میں سیرت نبوی اور عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق روایات بہت کم ہیں، واقعہ یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق بہت مواد ملتا ہے، اور بسا اوقات تو اس کی نوعیت بڑی اہم اور غیر معمولی ہوتی ہے، کبھی کبھی ان میں ایسے پہلو ریکارڈ ہوجاتے ہیں جن کا کوئی سراغ تاریخ و سیرت کی کتابیں نہیں دیتیں۔ یہ روایتیں حدیث کی تمام کتابوں میں بکھری ہوتی ہیں، ان کو جمع کرنا ایک لمبا کام ضرور ہے۔ مگر اب لوگ کرنے لگے ہیں۔ عربی اور اردو میں دو الگ محققین نے بخاری و مسلم کی ان روایات کو جمع کیا ہے جو تاریخی نقطہ نظر سے سیرت نبوی سے متعلق ہیں۔ مسند احمد کی فقہی ترتیب ’’الفتح الربانی‘‘ کی تیرہویں اور بیسویں، اکیسویں اور بائیسویں جلد میں سیرت سے متعلق نہایت وافر سرمایہ موجود ہے۔ سیرت کے معروف ماہر اور مورخ ڈاکٹر اکرم ضیاء عمری کے زیر نگرانی متعدد محققوں نے سیرت کے الگ الگ عہدوں اور ابواب سے متعلق حدیث و تاریخ کی روایات جمع کی ہیں، اور ان کی محدثین کے اصول کے مطابق جانچ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ کام جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) کے پی ایچ ڈی اور ایم اے کے مقالات کی شکل میں تقریبا مکمل ہوچکاہے،۔ کچھ چیزیں طبع ہوچکی ہیں اور کچھ منتظر طباعت ہیں۔
عہد جاہلی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ جاہلی کہلاتا ہے، سیرت نبوی کے پس منظر کے طور پر یہ زمانہ بھی زیر بحث آتا ہے، خاص طور پر عربوں کی ماقبل اسلام تہذیب و معاشرت دل چسپی کا موضوع بنتے ہیں۔ بعثت محمدی سے پہلے عربوں کی زندگی کورے کاغذ کی طرح تھی، قبائلی زندگی جو تمدن کے نقش و نگار اور تکلفات سے پاک تھی۔ عربوں کے علاوہ دنیا کی مختلف قوموں نے تمدن و تہذیب اور مذاہب و ادیان کی وادیوں میں مختلف راہیں نکالی تھیں۔ مختلف قوموں نے فلسفہ و حکمت اور تمدن و حکومت کے پر رعب نقوش قائم کیے تھے، بہت سی منظّم حکومتیں قائم تھیں، علم کی مسندیں آراستہ اور فنون کی زبمیں سجی ہوئی تھیں، مگر سب کا قبلہ غلط تھا اور شر کے رخ پر تھا، اور سب کا سب قرآن کے الفاظ میں ’’برّ و بحر کے عالمی فساد‘‘ کا مصداق تھا۔ عرب دنیا سے الگ اپنی صحرائی بدویانہ زندگی میں مست تھے۔ مگر یہ تصور غلط ہے کہ وہ اسلام سے پہلے محض فساد و ظلم کا مجموعہ اور خیر و نیکی سے عاری تھے، شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کارنامے کی عظمت بیان کرنے کی نیت سے غالبا بے شعوری طور پر اکثر یہی تصور قائم کرلیا جاتا ہے۔
عرب بے پڑھ لکھے تھے، تمدن کی رنگینیوں سے دور، اور فلسفے کی موشگافیوں سے ناواقف تھے، ان کو اپنے امی ہونے کا اور کتاب شریعت سے تہی دامن ہونے کا اعتراف تھا۔ مگر ان کی اس کمی نے ان کو فطرت سے قریب اور نفسیاتی و اخلاقی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا تھا۔ وہ شرک تھے، مگر ان کے اندر دین ابراہیمی کے باقی ماندہ اثرات تھے۔ ان میں بلا کی اخلاقی خوبیاں تھیں، سچائی اور وفاداری میں فرد، عزم و خودداری میں یکتا، اور سادگی و شہامت اور غیرت و ہمت ان کی قومی صفات تھیں۔
ان کی یہ خوبیاں ہی تھیں جن کی وجہ سے ان کا نبوت کے لیے انتخاب عمل میں آیا جس کی مخاطب پوری انسانی برادری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوموں میں آتے تھے، اس لیے کسی قوم میں نبی آنا عام حالات میں اس بات کی علامت نہیں ہوتا تھا کہ وہ قوم دوسری قوموں سے بہتر ہے۔ مگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عالمی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عربوں (بنی اسماعیل) کے واسطے سے پوری انسانیت تک پہنچنا تھا، اور وہی آپ کے دین کے سارے عالم کے لیے معلم قرار پائے تھے۔ اس لیے بنی اسماعیل کا اس عظیم کام کے لیے انتخاب خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کچھ خاص امتیازی صفات کے حامل تھے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی اسماعیل کا اور ان میں سے بنو کنانہ کا اور ان میں سے قریش کا انتخاب فرمایا، پھر ان میں سے بنی ہاشم اور میرا انتخاب فرمایا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے مخلوق کی بہتر جماعت میں پیدا فرمایا، پھر اس جماعت کے بہتر قبیلے میں مجھے رکھا۔ (سنن ترمذی باب فضل النبی)
ایک معاصر سیرت نگار کو عربوں کی ان خوبیوں کو ان کی جاہلی تاریخ و ادب کے خزانوں سے نکال کر لانا چاہیے، اور اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کیوں عرب اس امانت کے لیے زیادہ موزوں تھے۔
زمانہ قبل بعثت
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور رضاعت کے زمانے کے بہت سے محیرالعقول واقعات سیرت کی کتابوں میں روایت کیے جاتے ہیں، اگر یہ قابل اعتماد ذرائع سے اور صحیح روایات سے ثابت ہوں تو بسر و چشم قبول کیے جائیں، مگر ان کی بہت بڑی اکثریت بلکہ سوائے چند کے تمام نہایت کمزور اور بے اصل قسم کی روایتیں ہیں۔ بہت سے لوگ یہ کہہ کر ان کو قبول کرلیتے ہیں کہ فضائل و معجزات کے باب میں ضعیف روایتیں قبول کرلی جاتی ہیں۔ مگر یہ کم علم محسوس کرتا ہے کہ ان روایتوں کی حیثیت محض ’’ضعیف‘‘ روایات کی نہیں ہے، بلکہ اکثر روایتیں نہایت کمزور اور ’’واہی‘‘ قسم کی ہیں، اور محدثین کے جس اصول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اتنی کمزور روایات یا ’’واہی و موضوع‘‘ روایات کے لیے نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حدیث کی عام معتبر کتابوں میں یہ روایات نہیں لی گئی ہیں۔ بلکہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان روایات کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس کو اگر کوئی متقدمین کے عہد میں یہ کہہ کر روایت کرنے لگتا کہ میں تو سند بیان کررہا ہوں لوگ راویوں کو جان کر خود ان کے بارے میں فیصلہ کرلیں گے، تو محدثین اس کو ہی ساقط الاعتبار یا کمزور قرار دے دیتے۔ اس لیے حدیث کی عام کتابوں میں ان روایتوں سے احتیاط برتی گئی ہے۔
بعض معاصر اور ماضی قریب کے علماء نے یہ بات کہی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے اور بچپن کے حالات و معجزات اس لیے صحیح روایات میں ریکارڈ نہیں ہوسکے، کہ مسلمانوں کی علمی بزم تو عہد مدنی کے آخری نصف میں آراستہ ہونی شروع ہوئی، ماقبل ولادت اور بچپن کے معجزات کو دیکھنے والے اس دور میں بہت کم بچے تھے، یہ بات تو حقیقت سے قریب تر ہے، مگر اسی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہ کرام نے ان واقعات کو بیان کیا ہے (چاہے انہوں نے ان معجزات و واقعات کو خود دیکھا ہو، یا کسی اور اسے سنا ہو) بہر حال اگر صحابہ نے ان کو روایت کیا ہے تو یہ صرف نہایت کمزور راویوں کے یہاں کیوں ملتے ہیں، معتبر راوی ان کو روایت کیوں نہیں کرتے؟؟ اور اگر صحابہ کرام نے ان کو روایت کیا ہی نہیں ہے تو یہ کمزور راویوں کے پاس کہاں سے پہنچے؟؟۔
ایک اہم اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ محیرالعقول واقعات دینی اعتبار سے سیرت رسول کا ایک مفید و ضروری عنصر ہوتے تو اللہ کی تقدیر میں یہ ضروری ہوتا کہ یہ قابل اعتماد ذریعے سے ہم تک پہنچتے، اس لیے کہ نبی آخرالزماں کی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ جس کا تعلق آپ کی نبوت و رسالت سے ہو اور جس سے سیرت کے نبوی پہلو کو تقویت ملتی ہو وہ مکمل طور پر بے اصل روایات میں ہی پایا جائے، ایسا بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔
بہر حال! کمزور روایتوں میں پائے جانے والے محیرالعقول واقعات کے بکثرت بیان سے سیرت طیبہ پر ایک دیومالائی رنگ چھانے لگتا ہے، جو دین اور اس کی دعوت کے لیے مضر ہے۔ ہاں ماقبل ولادت اور بچپن اور جوانی کے جو معجزات اور آیات و دلائل معتبر روایتوں اور قابل اعتماد ذرائع سے آئے ہیں ان کا بیان ضروری ہے،۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے ایک نہایت اعلی کردار کی شریفانہ زندگی گذاری تھی، مکی معاشرے میں آپ کا کردار و اخلاق مسلم تھا، قرآن نے بھی مخالفین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلی زندگی کے حوالے سے غور و فکر کی دعوت دی تھی۔ ہمارے سیرت و حدیث کے سرمایے میں ایسی روایات موجود ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت سچائی، راست بازی، عدل، ہمدردی و غم خواری، مکہ میں آپ کی معتبر شخصیت اور اعلیٰ درجہ کی روحانیت و خداپرستی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ یہ روایتیں سیرت نگار کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
مکی عہد
جس طرح کسی با رعب و پر شکوہ و شوکت قلعے کی مضبوطی کا دار و مدار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے، جو زمین میں چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اسلام کے عظیم الشان قلعہ کا جو مرعوب کن منظر عہد مدنی میں نظر آتا ہے، اس کی مضبوطی کا راز عہد مکی میں چپھا ہواہے۔ سطحیت کے ساتھ کیا گیا مطالعہ ان عظمتوں کا راز حنین و تبوک کے میدانوں اور طائف و اوطاس کی وادیوں میں دکھائے گا مگر نگاہ حقیقت بین اور تحلیل و تجزیہ کے ساتھ کیا گیا مطالعہ اس کی جڑیں مکی عہد کی پر سوز دعوت، حکیمانہ تربیت، مؤمنانہ صبر و استقلال اور مدبرانی حکمت عملی میں ڈھونڈیں گے۔
مدنی عہد کی طرح مکی عہد کا اتنا مفصل ریکارڈ ہمارے حدیث و سیر کی دفتروں میں نہیں ہے، اس کے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے، اس لیے یہاں ہم کو زیادہ گہرے تجزیے اور استنباط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے اس عہد کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھی ہوئی ہے کہ یہ دور سیرت نبوی کے اس وقت کا شاہد ہے جب مسلمان کمزور اور مغلوب تھے اور ایک غیر مسلم اقتدار کے تحت رہتے تھے، دعوت اسلامی کے راستے میں رکاوٹیں سخت اور بے شمار تھیں۔ پھر چند سالوں کے بعد ہی مدینہ کے افق سے اسلام کے غلبہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، صدیوں تک اس کو زوال نہیں ہوتا، اسی روشن اور پُر بہار دن میں فکر اسلامی پروان چڑھتا ہے، مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی رویے طے کرتے ہیں، اپنی شریعت و قانون کے ضابطے متعین کرتے ہیں، ان کا پورا ذہنی سانچی اسی غلبہ و عافیت کے دور میں تیار ہوتا ہے۔ تا آنکہ 12؍صدیوں بعد یہ سورج غروب ہوتا ہے، اور اسی اندھیرے کی رات شروع ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر کا مکہ سے آغاز کیا تھا۔
اب ایک مرتبہ پھر امت کو اسی طرح علمی اور دعوتی تدریج کا راستہ ڈھونڈنا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی عہد میں اور مدینہ کے ابتدائی عہد میں سفر کیا تھا، جس میں اصولوں پر عزیمت کے ساتھ جمنے کا بھی سبق ہے، کفر و ایمان کی واضح حد بندی بھی ہے، اور بھرپور حکمت عملی کے ساتھ مخالف ماحول میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرنے اور رکاوٹوں کے بیچ سے راستہ نکالنے کی تدبیریں بھی۔
ایک طرف تو آپ کفر سے اسی طرح برائت کا اظہار کرتے ہیں جس طرح سورۂ ’’الکافرون‘‘ میں آپ کو حکم دیا گیا تھا، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم سے خاص طور پر اور بنو عبدمناف کے خاندان سے عمومی طور پر نہیں اور کمزور مسلمانوں کی حفاظت میں مدد بھی لے رہے ہیں۔ مکہ کی قبائلی زندگی میں جو رسم و رواج اور عرف ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بھی استعمال کررہے ہیں۔ مدینہ میں مشرک عناصر اور یہودی قبائل پر مشتمل ایک مشترک دستوری مملکت بھی تشکیل دے رہے ہیں جو قریشی خطرے کا مقابلہ متحد ہوکر کرے گی۔ مکی زندگی میں آپ کو لچک اور صلابت کے حدود بھی ملیں گے اور عزیمت اور خصت کے اصول بھی، اور ان کے علاوہ ایسے بہت سے رہنما اصول ملتے چلے جائیں گے جو عہد حاضر میں ہمارے طرز عمل کی شرعی بنیا ہوں گے۔
عہد مکی کے مطالعے میں اس دور کی دعوت کے عناصر کی تلاش ایک اہم موضوع بحث ہے، اس کے متعلق قرآن مجید میں بہت اہم مواد موجود ہے جو اس پوری فضا کی نہایت مکمل اور مفصل تصویر کشی کرتا ہے جس میں اسلامی دعوت اپنا سفر طے کررہی تھی۔ قرآن مجید اس دور کی دعوت کے بنیادی عناصر بھی بیان کرتا ہے، اس وقت اس کے کیا دلائل دیے جا رہے تھے؟ کس قسم کے اعتراضات اور شبہات پیش آرہے تھے؟ اس کو بھی واضح کرتا ہے، نیز اس کے بیانات کے بین السطور اور سلوٹوں میں یہ بھی پڑھا جاسکتا ہے کہ اس مخالف بھری فضا کے کیا نفسیاتی اثرات اہل ایمان پر پڑتے تھے۔
عہد مکی کے مطالعے کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکیمانہ طرز عمل کا گہرا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے، جس میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کثیر رخی مخالفت کا سامنا کس طرح کررہے تھے؟ کن شخصیتوں اور جماعتوں کو اللہ تعالی نے آپ کے لیے ڈھال بنادیا تھا؟ آپ کا ان شخصیتوں اور جماعتوں سے کس قسم کا رابطہ رہتا تھا؟
عہد مکی کا یک اہم باب ہجرت حبشہ ہے، یجرت حبشہ کے دعوتی اور سیاسی پہلووں کو خاص طور پر اہمیت دینی چاہیے، یہ بات خاص طور پر نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جنوبی اور مشرقی عرب کے قبائل فارسی حکومت کی سیاسی سرپرستی کے تحت تھے، اہل مکہ (اور اہل مدینہ) کے بھی کسری کے درباری سے تعلقات تھے، خود کسریٰ بھی ان علاقوں کے لوگوں کو اپنا محکوم جانتا تھا، اس لیے جب اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پہنچا تو اس نے آمرانہ تکبر سے کہا: ’’یکتب الیّ ھذا و ھو عبدی‘‘ (میرا غلام ہوکر مجھ سے اس طرح خطاب؟) اور اسی لیے اس نے اپنے یمن کے گورنر کو لکھا کہ وہ مدینہ دو آدمی (صرف دو) بھیج کر آنحضرت کو گرفتار کروا کر مدائن بھیج دے۔ اس پس منظر میں دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو حبشہ کی حکومت کے پاس بھیجا جو ایران کی ساسانی حکومت کی عالمی حریف سلطنت روما کے تابع اور اس کی ہم مذہب (عیسائی) تھی۔
حبشہ میں مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنے لگے، جو ان کو ان کی ذاتی زندگی میں مذہبی آزادی بھی دیتی تھی، اور ان کی حفاظت بھی کرتی تھی، صحابہ کرام نے بھی اس حکومت سے وفاداری اور خیرخواہی کا ثبوت اس حد تک دیا کہ اس کے لیے اپنی فوجی خدمات تک پیش کیں۔ حبشہ میں مسلمانوں کا رویہ اور طرز عمل ہمارے سامنے حکمت عملی کے اہم دروازے کھولتا ہے، اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی نجاشی کے دربار میں کی گئی تقریر اسلامی دعوت و سیاست کا ایک شاہکار ہے۔
اہل علم و فکر کے لیے ایک سوال یہ بھی غور طلب ہے کہ وہ کون سی مصلحت تھی کہ جس کی خاطر مہاجرین حبشہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و حفاظت اور آزادی کا وطن میسر ہونے کے بعد بھی اس وقت تک نہیں بلایا جب تک صلح حدیبیہ کے بعد جب عرب میں کوئی بڑی مخالفت نہیں رہ گئی تھی وہاں سے واپس ہوے اور فتح خیبر کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔
مکی دعوت کا ایک اہم باب موسم حج اور اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبائل کے وفود سے ملاقات بھی ہے، جس میں آپ ان کو اسلام کی بھی دعوت دیتے تھے اور اپنے لیے پناہ اور حفاظت کی بھی فرمائش کرتے تھے۔
اس عہد کے مطالعے کا ایک اہم موضوع یہ ہے کہ مکہ والوں کی اور عام طور پر سارے عرب کی مخالفت کے کیا اسباب تھے؟ وہ اسلام دشمنی اور اس کا راستہ روکنے کے لیے کیا کیا وسائل استعمال کرتے تھے؟ اسی طرح ایک نہایت اہم سوال جو بہت سے دلچسپ حقائق کو سامنے لائیگا، یہ ہے کہ کیا اہل مکہ اور قریش کے لیے کچھ ایسی اخلاق رکاوٹیں یا قبائلی و خاندانی بندشیں تھیں جو عام طور پر ان کی مخالفت کو ایک حد سے آگے پڑھنے نہیں دیتی تھیں؟ راقم سطور کی نظر میں علامہ شبلی نعمانی وہ پہلے سیرت نگار ہیں جنہوں نے کسی حد تک یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ قریش اور اہل مکہ اپنی مخالفت اور محاذ آرائی میں ان آخری حدوں تک کیوں نہیں جاتے تھے جہاں تک جانے سے روکنے والی بظاہر کوئی مادی وجہ نہیں تھی؟ راقم سطور کی ناقص نظر میں اس کا سبب آپسی قرابت داری اور خاندانی رشتوں کا پاس اور لحاظ تھا، جو عربوں کا قومی مزاج تھا، حتی کہ اگر بعض بدبخت اس مخالفت میں ان حدوں سے نکلنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے تو بھی ان کو روکا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے مخالفانہ اور خطرناک ماحول میں ایک طرف تو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے، دوسری طرف آپ اپنی دعوت کی اور اپنے حامیوں کی حفاظت کے لیے مکی معاشرے کے اجتماعی نظام کو بھی استعمال کرتے تھے اور اس کے خیر کے پہلووں کی قدر کرتے تھے۔
عہد مدنی
ہجرت کا واقعہ غیر معمولی حدتک اہم اور سبق آموز ہے، اگر چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابتداء نبوت میں ہی اسی بات کا واضح خدائی وعدہ کرلیا گیا تھا کہ آپ کو اپنے مخالفوں پر واضح برتری حاصل ہوگی، اور آپ کا نبوی مشن مکمل ہوکر رہے گا، مگر اس کے باوجود اللہ تعالی نے آپ کو ان ساری احتیاطوں کا اور اپنی حد تک ان سارے وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیا جن سے اس عالم اسباب میں مخالفتوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے، اور خطروں سے بچا جاتا ہے۔ ہجرت کے موقعے پر اگر چہ یہ یقین ہے کہ ’’ان اللہ معنا‘‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے، اور اس کا آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطمینان بھی دلاتے ہیں کہ ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، مگر اس کے باوجود آپ چُھپتے بھی ہیں اور بھاگتے بھی ہیں، اور ساری احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرتے ہیں۔
سیرت نبوی کے تجزیاتے مطالعے میں یہ بات بھی غور و طلب ہے کہ مدینہ اور اہل مدینہ میں وہ کون سی خاص بات تھی جو اس کے خداوندی انتخاب کا سبب بنی؟ یہ جستجو مدینہ کہ نسبۃ کافی محفوظ جغرافیائی پوزیشن(1)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ میں نانیہالی رشتہ (2)، مدینہ کے عرب قبائل کا سادہ و نرم مزاج اور خوئے وفا، جیسے اسباب تک پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ ایک تاریخی سبب بھی سامنے آتا ہے جس کی طرف امت کی ذہین ترین خاتون ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عقل رسا پہنچی ہے۔ اوس و خزرج کے درمیان کئی دہائیوں سے جنگوں کا جو طویل سلسلہ چلا آتا تھا، اس نے ان کو کسی نجات دہندہ کے استقبال کے لیے ذہنی طور پر تیار کردیا تھا، وہ نجات دہندہ اسلام ثابت ہوا۔ (صحیح البخاری)
مدینہ منورہ میں منافقین کے مسئلہ سے کس طرح نمٹا گیا، نیز منافقین اور ان کے طریقہ واردات کا مطالعہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تھے تو مہاجرین کی حیثیت ایک کمزور پناہ گزیں گروہ کی تھی، انصار کبھی کوئی بڑی طاقت نہیں تھے، مدینہ میں مشرک خاندانوں کے علاوہ یہودیوں کی ایک بڑی طاقت بھی تھی جو الگ الگ قبائل میں منقسم اور اپنا دفاعی نظام رکھتے تھے، سارا عرب قریش کا پیرو اور ان کی مذہبی قیادت کا معترف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدہنہ پہنچ کر ایک کثیر معاشرتی اور مختلف سماجی اور فوجی طاقتوں پر مشتمل ایک ریاست کی تشکیل کی، جس میں مذہبی گروہوں اور قبائلی اکائیوں کے درمیان باہمی، اعتماد، آزادی اور مساوات پر مبنی تعاون و دفاع کا نظام قائم ہوا، پھر اطراف کے مشرک قبائل سے دفاعی معاہدے کیے گئے، جس میں کچھ نے حمایت کے معاہدے کیے، کچھ نے اطلاع رسانی کے، اور کچھ نے کسی حملے کی صورت میں غیرجانبدار رہنے کے۔ آپ نے مدینہ پہونچنے کے بعد تقریبا ڈیڑھ سال انہی مہموں میں اور ان مقاصد کی تگ ودو میں بسر کیا، اس سلسلے میں غروہ بدر سے پہلے کے سرایا اور مہمات کے مقاصد کی کھوج اور ان کی دریافت نہایت ضروری کام ہے، پتہ چلانا چاہیے کہ ان میں کیا مقاصد حاصل کیے گئے۔
یہ دور بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس میں کمزور مسلم ممالک کے لیے نبوی حکمت عملی کی روشنی ہے۔ غزوات نبوی کے اسباب اور پس منظر سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسلام کے عادلانہ قوانین کی روشنی میں اور صحیح روایات کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، مدینہ میں جو اسلامی ریاست قائم ہوئی اس کی تنظیمات، شعبہ جات، اور طریق کار سے متعلق کام ابھی عام نہیں ہوئے ہیں، معاصر مورخین نے اس طرف توجہ کی ہے، ضرورت عمومی مطالعے کی ہے۔
سیرت نبوی کا ایک نہایت اہم موضوع وہ اخلاق اور روحانی انقلاب ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں آیا، جس کے بارہ میں ہر واقف کار دوست و دشمن کی شہادت ہے کہ دنیا میں کبھی اس سے زیادہ روح پرور بہارِ اخلاق و ایمان نہیں آئی۔ سچی خدا پرستی، عدل و انصاف، اور انسانوں کی محبت و نفع رسانی میں اس نسل کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیا تھا۔ یہ سیرت محمدی کا سب سے بڑا کارنامہ اور سب سے بڑا معجزہ ہے۔
حواشی:
1۔ مدینہ کے مشرق و مغرب کی جانب ’’حرے‘‘ یعنی ناقابل عبور نوکیلے پتھر تھے، جنوبی طرف نخلستان، شمال مغرب میں ’’سلع‘‘ نامی پہاڑی اور شمال میں احد کا پہاڑ، اس طرح مدینہ تقریبا 3 چوتھائی گھرا ہوا تھا۔
2۔ عربوں میں بھانجے اور نواسے کا رشتہ بڑی حمیت اور غیرت کا ہوتا تھا، بسا اوقات کوئی مظلوم اپنے نانیہالی رشتہ داروں کی مدد سے ہی خطروں کا مقابلہ کرتا تھا، ان کی قبائلی غیرت کے لیے یہ رشتہ اتنا حساس ہوتا تھا کہ وہ عام طور پر اپنا جان اور مال قربان کرکے بھی اس رشتہ کا پاس رکھتے تھے۔
بقلم: مولانا محمد یحییٰ نعمانی
ایڈیٹر ماہ نامہ الفرقان لکھنؤ۔ بھارت
ماہنامہ الشریعۃ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…