وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں پارلیمان میں موجود پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی سمیت 11 سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ ’پاکستان میں کوئی ایسی روایت نہیں پڑنے دی جائے گی کہ چند لوگ دھونس کے ذریعے کروڑوں لوگوں کے مینڈیٹ کو یرغمال بنا لیں۔‘
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ کسی دباؤ کے تحت استعفیٰ ہرگز نہیں دیں گے نہ چھٹی پر جائیں گے۔‘
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں شریک رہنماؤں نے پہلے سے منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں ایک بار پھر کہا کہ ملکی استحکام اور آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کے تسلسل پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کا تحفظ کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق ’جمہوریت ہی وفاق کی تمام اکائیوں کے اتحاد کی ضمانت ہے اور پارلیمان کو یرغمال بنا کر کسی طرح کے مطالبات منظور نہیں کروائے جا سکتے۔‘
پارلیمانی جماعتوں کے اس اجلاس میں میڈیا کے بعض حلقوں کی طرف سے عسکری اداروں اور ان کی قیادت کے بارے میں بے بنیاد اور غیر ذمہ درانہ رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پیر کی صبح سرکاری ٹی وی پی ٹی وی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاست اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی کل منگل کو منعقد ہوگا جبکہ آج پیر کی دوپہر وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔
تاہم اس کے بعد پاکستان کے متعدد نجی ٹی وی چینلز نے یہ خبر نشر کرنی شروع کر دی کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کو 3 ماہ کے لیے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے لیکن فوراً ہی حکومت اور آئی ایس پی آر نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…