غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدارتی امیدوار عبد اللہ عبداللہ نے متنازع انتخابات کے نتائج کے حوالے سے پیدا شدہ بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں سے علیٰحدگی کی دھمکی کا اعادہ کیاہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں جیت سے محروم کیا گیا تو افغانستان نسلی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے گا۔ ان کے حامیوں کا دباؤ ہے کہ متوازی حکومت قائم کی جائے جس سے حالات ایک بار پھر 1990 کی دہائی جیسے ہو جائیں گے۔ عبداللہ عبداللہ کے ترجمان فضل آقا حسین نے کہاکہ ان کی ٹیم معاہدے سے کسی وقت بھی انکار کر سکتی ہے۔
ان کے اس بیان نے افغانستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری انتقال اقتدارکا مرحلہ مزید مشکل کردیا ہے۔ فضل آقا نے کہا کہ ان کی برداشت جواب دیتی جارہی ہے۔ فراڈ الیکشن کمیشن کے مرتب کردہ نتائج کا کوئی بھی اعلان ہمارے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ اگرکل تک شفاف آڈٹنگ اور دیانت دارانہ سیاسی عمل سے متعلق ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے توہم اس پورے عمل کامکمل بائیکاٹ کردیں گے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ نے دھاندلی اور فراڈ کے الزامات لگائے تھے اور الیکشن کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی جس کے بعد سے اب تک افغانستان کے صدر کا انتخاب ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید