اسرائیلی طیاروں نے آج غزہ پر 30 حملے کئے جن میں 78 سالہ بزرگ سمیت 8فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر 71 راکٹ فائر کئے گئے تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جب کہ 19 اگست کو جنگ بندی کے خاتمے سے لے کر اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر 350 حملے کئے ہیں جس میں اب تک 109 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب مصر نے جنگ بندی کی نئی کوششوں کا آغاز کردیا ہے اور اس حوالے فلسطینی وفد نے قاہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تجاویز میں عارضی جنگ بندی کے ساتھ مصر ی سرحد کو کھولنے کی اجازت بھی شامل ہے تاکہ امدادی اور تعمیراتی سامان غزہ لایاجاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کی ان شرائط کو ماننے کے لیے تیار ہیں تاہم اس سلسلے میں اسرائیلی ردعمل کا انتظار ہے۔
حماس کے ترجمان کا غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لئے کوششیں جاری ہیں تاہم اس کا انحصار فلسطینیوں کے مطالبات کی منظوری سے منسلک ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے فی الحال اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تاہم اسرائیلی وزیرکا کہنا تھا اگر حماس راکٹ حملے بند کردے تو بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ صیہونی فوج کی جانب سے 8 جولائی سے شروع کی جانے والی اس بربریت میں اب تک 2 ہزار 128 فلسطینی شہید جب کہ ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید