داعش کے قبضے میں جانے والی کیمیاوی مواد کے یہ ذخیرے ماضی میں مہلک اعصاب شکن گیس سے بھرے راکٹ سمیت دوسرا کیمیائی وار فیئر مواد سٹور کرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق اس امر کا انکشاف اقوام متحدہ میں عراقی سفیر محمد الحکیم نے یو این جنرل سیکرٹری بین کی مون کے نام اپنے ایک خط میں کیا ہے۔
محمد الحکیم نے اپنے خط میں بتایا کہ “شمالی بغداد میں المثنی فیکٹری ہمارے کنڑول سے نکل چکی ہے۔” عراقی سفیر کے بقول متروکہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال ہونے والا مواد اسی فیکٹری کے زمین دوز خفیہ خانوں میں موجود ہے، جس پر مسلح جنگجو قبضہ کر سکتے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان ایڈمیرل جون کیربی نے گذشتہ دنوں اس معاملے کو زیادہ اہمیت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان سٹورز میں جو بھی مواد ہے، وہ انتہائی پرانا ہو چکا ہے، اس لئے اگر جنگجو اس مواد تک رسائی حاصل کر بھی لیتے ہیں تو یہ ایک انتباہ سے زیادہ عملی حیثیت نہیں رکھتا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار