Categories: مشرق وسطی

شام : داعش کا تیل کے بڑے کنویں اور دو قصبوں پر قبضہ

دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں متحارب اسلامی جنگجوؤں سے ملک کے تیل کے سب سے بڑے کنویں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور دو قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

 

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ دولت اسلامی (سابقہ دولت اسلامی عراق وشام) نے شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ سے العمرآئیل فیلڈ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں سیاہ لباس میں ملبوس جنگجوؤں کو تیل کے کنویں کے داخلی دروازے پر کھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو میں ایک جنگجو کہہ رہا ہے کہ انھیں النصرۃ محاذ کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور انھوں نے پانچ رمضان المبارک ( جمعرات کو) اس آئیل فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔
النصرۃ محاذ نے نومبر میں شامی فوج سے لڑائی کے بعد اس آئیل فیلڈ پر قبضہ کیا تھا اور وہ اس سے دس ہزار بیرل یومیہ تیل نکال رہا تھا جبکہ اس کی یومیہ پیدواری صلاحیت پچھتر ہزار بیرل ہے۔
واضح رہے کہ شام تیل پیدا کرنے والا کوئی بڑا ملک نہیں ہے اور اس نے 2011ء کے بعد سے تیل برآمد نہیں کیا ہے۔ تب امریکا اور مغرب نے صدر بشارالاسد کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے شام پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان پابندیوں سے قبل شام تین لاکھ ستر ہزار بیرل یومیہ تیل برآمد کررہا تھا اور اس میں سے زیادہ تر تیل یورپ کو بھیجا جاتا تھا۔

دو قصبوں پر قبضہ

النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے دیرالزور میں دو قصبوں کو بھی خالی کر دیا ہے جس کے بعد شام کے اس سرحدی صوبے کا بیشتر علاقہ دولت اسلامی کے زیر نگیں آگیا ہے۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق قصبے المیادین اور شہیل سے النصرۃ محاذ کے انخلاء کے بعد مقامی مسلح قبائل نے دولت اسلامی سے اپنی وفاداری کا اظہار کردیا ہے۔
دیر الزور میں اب صوبائی دارالحکومت اور ہوائی اڈے ہی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے کنٹرول میں رہ گئے ہیں یا پھر شہر کے نواح میں واقع چند ایک دیہات میں شامی حکومت کی عمل داری قائم ہے۔باقی سب علاقے پر دولت اسلامی کا قبضہ ہوچکا ہے۔اسی ہفتے میں اس جنگجو گروپ نے عراق کی سرحد کے ساتھ واقع قصبے البوکمال پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سرحد کے دونوں جانب علاقے پر اس کا کنٹرول ہوگیا تھا۔
آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دولت اسلامی نے شام کے پڑوسی ملک لبنان کے حجم سے پانچ گنا بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔دولت اسلامی نے شام اور عراق میں سنی اکثریتی صوبوں پر قبضہ کر کے وہاں اپنی اسلامی خلافت قائم کردی ہے اور اس کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔
یہ جنگجو تنظیم القاعدہ کے جہادی اور سخت گیر نظریے پر عمل پیرا ہے لیکن اس نے اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔اس کے علاوہ شام کے دوسرے جنگجو گروپوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائی جاری ہے اور اس کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ان کے درمیان مفاہمت نہیں ہوسکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

2 days ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

2 weeks ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

3 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

1 month ago