غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی سرحد سے متصل عراقی سرحدی علاقے القائم میں سیکیورٹی فورسز اور داعش کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور گھمسان کی جنگ کے دوران 34 عراقی اہلکار ہلاک ہوگئے، جمعرات کی شب سے جاری لڑائی جمعہ کی سہہ پہر تک جاری رہی جس کے دوران عراقی سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق فورسز کے مقابلے میں داعش کے جنگجو جدید ہتھیاروں سے مسلح ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ تازہ طویل ترین لڑائی کے بعد القائم کے مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے فضائی حملوں سے معذرت کئے جانے کے بعد عراقی وزیراعظم نوری المالکی کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ عراقی رہبر اعلیٰ آیت اللہ السیستانی نے نومنتخب پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے وہ بغیرکسی دیر کئے نئی حکومت تشکیل دیں تاکہ عراق کے مسئلے پر جلد از جلد قابوپایا جاسکے۔
واضح رہے کہ عراق میں حکومت مخالف عسکری تنظیم داعش نے ملک کے دوسرے بڑے صوبے موصل سمیت کئی شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ شام اور عراق کا سرحدی علاقہ بھی داعش کے کنٹرول میں آچکا ہے۔
اکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…