تمام افراد پر 2011 میں ڈھاکا کے مرکزی پارک میں بم دھماکے کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے، تنظیم کے سربراہ مفتی عبدالحنان اور ان کے ساتھیوں پر 2004 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی اس وقت قتل کرنے کی کوشش کا بھی الزام عائد تھا، جب وہ اپوزیشن لیڈر تھیں، 2009 میں شروع ہونے والے اس کیس کے ٹرائل کے بعد عدالت نے پیر کو ملزمان کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا، کیس کے پراسیکیوٹر ایس ایم زاہد حسین نے مقدمے کی سماعت سے قبل بتایا کہ ہم 14ملزمان کے خلاف کیس کو ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہمیں امید ہے کہ عدالت انھیں پھانسی کی سزا سنائے گی۔
انھوں نے کہا کہ فیصلے کے ذریعے عدالت کو پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ملک میں اس قسم کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا، تنظیم کے سربراہ مفتی عبدالحنان کو 2004 میں سلہٹ میں برٹش ہائی کمشنر پر گرنیڈ حملے اور 3 افراد کے قتل کے الزام میں پہلے ہی پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے، مفتی عبدالحنان کو 2005 میں اس وقت گرفتار کیا گیا، جب حکومت نے اس تنظیم پر پابندی عائد کی تھی، پولیس کی جانب سے بھی مذکورہ گروپ پر عدالتوں اور دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…