شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق عراقی سرحد سے ملحقہ میایا دین کے بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے، شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ بم بارود سے بھاری کار میں نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے متعدد دھماکے ہوئے۔
دوسری جانب شامی فوج کے خلاف برسرپیکار ’’النصرہ فرنٹ‘‘ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ہمارے ساتھیوں نے کی ہے جب کہ اس گروپ کا تعلق عراق میں حکومت کے خلاف جنگ میں مصروف تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) سے ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید