بدھ کو سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ بشار الاسد کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے تقریباً 89 فیصد ووٹ لے کر لگاتار تیسری مرتبہ ملک کے صدر بن گئے ہیں۔
اس سے قبل شام کی آئینی عدالت نے ملک میں ووٹنگ کی شرح ساڑھے 73 فیصد بتائی تھی۔
اس صدارتی الیکشن میں کئی دہائیوں میں پہلی بار بیلٹ پیپر پر ایک سے زیادہ نام نظر آئے اور بشار الاسد کے مدِمقابل امیدواروں حسن النوری اور ماہر حجار نے بالترتیب چار اعشاریہ تین اور تین اعشاریہ دو فیصد ووٹ حاصل کیے۔
شام میں یہ صدارتی انتخاب تین برسوں کی خانہ جنگی کے بعد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔
تاہم شامی حکومت کے ناقدین نے اس انتخاب کو ’دھوکے اور فریب‘ سے تعبیر کیا ہے۔ شام کے ہمسایہ ملک لبنان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ الیکشن ’بےمعنی‘ ہے۔
شام میں حزب اختلاف نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا اور سخت سکیورٹی انتظامات میں ہونے والے اس انتخاب کے لیے ووٹنگ انھی علاقوں میں ہوئی جہاں ملک کے موجودہ صدر بشار الاسد کی حامی افواج کا کنٹرول ہے۔
نتائج کا اعلان کرتے ہوئے محمد اللہم نے کہا کہ ’میں ڈاکٹر بشار حافظ الاسد کی عرب جمہوریہ سوریہ کے صدر کے طور پر حتمی اکثریت کے ساتھ کامیابی کا اعلان کرتا ہوں۔‘
بشار الاسد کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی دارالحکومت دمشق فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔
صدارتی الیکشن کے لیے ملک بھر میں ساڑھے نو ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے جو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے کھلے اور ووٹروں کے رش کی وجہ سے اختتامی وقت سے پانچ گھنٹے بعد تک رات بارہ بجے تک جاری رہی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اس انتخاب کو بحران کے حل کے طور پر پیش کرنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔
دمشق میں بی بی سی کے نمائندے جرمی بوئین کا کہنا ہے کہ ان انتخاب کے انعقاد کا وقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…