بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب سوموار کو دارالحکومت نئی دہلی میں راشٹر بھون میں منعقد ہوئی اور صدر پرنب مکھرجی نے ان سے حلف لیا۔تقریب میں تمام سارک ممالک کے سربراہان ریاست وحکومت ،بھارت کے اہم سیاسی قائدین ، کاروباری شخصیات اور متعدد ممالک کے اعلیٰ سرکاری عہدے دار شریک تھے۔
میاں نوازشریف نے بھارت کے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کا یہ بہترین موقع ہے اور دونوں کو عشروں پر محیط علاقائی عدم استحکام کا خاتمہ کرنا چاہیے کیونکہ دونوں حکومتوں کو مضبوط مینڈیٹ حاصل ہوا ہے”۔
نریندر مودی نے اپنی حلف برداری سے قبل ایک پیغام میں کہا کہ ”16 مئی 2014ء کو بھارت کے عوام نے اپنا فیصلہ دیا تھا اور انھوں نے ترقی ،اچھی حکمرانی اور استحکام کے لیے مینڈیٹ دیا تھا۔ہم بھارت کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں ،اس کے لیے ہمیں آپ کی حمایت، دعاؤں اور فعال شرکت کی ضرورت ہے”۔
تریسٹھ سالہ نریندر مودی اپنی انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں سے رابطے میں رہے ہیں اور انھوں نے حلف اٹھانے سے قبل بھی ایک ٹویٹ کیا تھا۔بھارتی وزیراعظم کی ویب سائٹ بھی اپ ڈیٹ کی گئی ہے جس میں ان کا شخصی خاکہ اپ لوڈ کیا گیا ہے۔اس میں ان کے دیگر کارناموں اور شخصی خوبیوں کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ نوجوانی کے دور سے قوم کے لیے خدمات کی انجام دیتے چلے آرہے ہیں اور ”محب وطن تنظیموں” کے لیے کام کرتے رہے تھے۔یہاں ان تنظیموں سے مراد انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) ہے جس کے وہ رکن رہے تھے۔
ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قراردیے جانے والے بھارت میں چھے مراحل میں منعقدہ عام انتخابات میں گذشتہ تیس سال میں پہلی مرتبہ ایوان زیریں لوک سبھا کی سب سے زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔نریندر مودی ایک چائے فروش کے بیٹے ہیں اور وہ خود بھی نوعمری میں یہ کام کرتے رہے ہیں۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ملکی معیشت کی بحالی اور کاروبار نواز پالیسیوں کا ایجنڈا پیش کیا تھا۔اسی بنا پر انھیں انتخابات میں نمایاں کامیابی ملی ہے اور بھارت کی بانی اور سب سے قدیم جماعت کانگریس کو پہلی مرتبہ بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
نریندر مودی کی کابینہ نے بھی حلف اٹھا لیا ہے اور بی جے پی کے سینیر رہ نماؤں کو اہم وزارتوں کے قلم دان سونپے گئے ہیں۔جماعت کے سینیر رہ نما ارون جیٹلی کو وزیرخزانہ بنایا گیا ہے اور انھیں وزارت دفاع کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔جماعت کی سینیر خاتون رہ نما سشما سوراج کو خارجہ امور کی وزارت سونپی گئی ہے اور راج ناتھ سنگھ کو وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔سابق بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کی بہو مانیکا گاندھی کو خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت سونپی گئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…