پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اب اس مرحلے میں مدِ مقابل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ نے 45 فیصد اور اشرف غنی 31.6 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ دیگر امیدوار انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے عبداللہ عبداللہ کے اہم مخالف زلمے رسول نے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا جس سے عبداللہ عبداللہ کی مہم کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج 2014 کے اختتام تک انخلا کر رہی ہیں۔
انتخابات کا دوسرا مرحلہ 14 جون کو منعقد ہوگا۔
پہلے مرحلے کے نتائج شکایات کے ایک طویل عمل کے بعد جاری کیے گئے ہیں اور اس میں ہزاروں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی تھی۔ تاہم اس سے دونوں اہم امیدواروں کی پوزیشن پر فرق نہیں پڑا۔
کابل سے بی بی سی کے ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں سابق وزرا ہیں اور افغانستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی معروف ہیں۔
عبداللہ عبداللہ کا دعویٰ ہے کہ اگر پہلے مرحلے کی شکایات کی صحیح جانچ پڑتال کی جاتی تو وہ 50 سے زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتے۔
پانچ اپریل کو ہونے والے انتخابات میں لاکھوں افغان شہریوں نے طالبان کی دھمکیوں کے باوجود ووٹ ڈالے۔
طالبان انتخابات کے پہلے مرحلے میں زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکے، تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’لڑائی کے موسم‘ کے آنے اور گرم تر موسم کی وجہ سے دوسرے مرحلے میں سکیورٹی کے مسائل زیادہ ہو سکتے ہیں۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے صدر کو افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے خطرے کا سامنا ہوگا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…