غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رکن پارلیمنٹ اور واقعے کے عینی شاہد احمد زنا نے بتایا کہ ’’گمبورو نگالا‘‘ گاؤں میں تعینات فوجیوں کو اسکول سے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو بچانے کی غرض سے دوسرے مقام پر تعینات کردیا گیا تھا جس کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند تنظیم کے کارندے کار اور موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر آئے اور انہوں نے گاؤں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کئی مکانات تباہ اور علاقے کی مشہور مارکیٹ سمیت ثقافتی اور معاشی مراکز کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب لوگ اپنی جان بچانے کے لئے وہاں سے نکلے تو حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب نائجیرین پولیس نے 14 اپریل کو اسکول سے اغوا کی جانے والی 200 سے زائد لڑکیوں کی تلاش اور بازیابی میں مدد کرنے والے کے لئے 3 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا نے بھی ماہرین کی ایک ٹیم نائجیریا بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو مغوی لڑکیوں کی بازیابی کی کوششوں میں مدد دے گی۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار