Categories: مشرق وسطی

شامی فوج کا حلب میں اسکول پر فضائی حملہ، 25 ہلاک

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے شمالی شہر حلب میں ایک اسکول پر فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی فوج گذشتہ کئی روز سے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بیرل بموں کے حملے کررہی ہے۔شہر کے علاقے انصاری میں واقع عین جالوت اسکول پر بمباری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اسد مخالف کارکنان نے اس حملے کے بعد تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جس میں جماعتوں کے کمرے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور برآمدے کی دیواروں پر بھی خون لگا ہوا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے حملے میں انیس ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ حلب میں اسد مخالف میڈیا مرکز کی اطلاع کے مطابق پچیس بچے مارے گئے ہیں۔ویڈیو فوٹیج میں دس پندرہ بچوں کی لاشیں فرش پر رکھی دکھائی گئی ہیں۔
حلب میں یہ فضائی حملہ وسطی شہر حمص میں دو تباہ کن کاربم دھماکوں کے ایک روز بعد کیا گیا ہے،اس بم حملے میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو ہوگئی ہے۔یہ دونوں بم دھماکے حمص کے حکومتی کنٹرول والے علاقے عباسیہ میں ہوئے تھے اور آبزرویٹری کے مطابق جہادیوں کے ایک گروپ نے ان کی ذمے داری قبول کی ہے۔
عباسیہ میں زیادہ تر علوی اہل تشیع اور عیسائی آباد ہیں اور یہاں منگل کو ایک مصروف چوراہے کے نزدیک بارود سے لدی دو کاروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس افراد موقع پر ہی مارے گئے اور ایک سو سولہ زخمی ہوگئے تھے۔شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران حمص میں یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے تھے۔قبل ازیں باغی جنگجوؤں اور اسدی فوج کے درمیان اس شہر میں خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
درایں اثناء ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے شامی باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے اسد حکومت پر عاید کردہ کلورین گیس کے حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشن شام بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسد حکومت نے اس مشن کو تسلیم کرنے اور اپنے کنٹرول والے علاقوں میں اس کو سکیورٹی مہیا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔تاہم اس نے مشن کی شام آمد کی کوئی تاریخ نہیں بتائی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ اس کو جلد بھیجا جائے گا۔
شامی باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے گذشتہ ماہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر کلورین گیس کے تین حملے کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔اگر تحقیقات کے بعد ان الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے ستمبر 2013ء میں طے پائے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہوگی اور اس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ اس نے ابھی تک اپنے تمام ہتھیار تباہ کرنے کے لیے اوپی سی ڈبلیو کے مشن کے حوالے نہیں کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago