موجودہ وزیر اعظم نورالمالکی تیسری مرتبہ پھراقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگرچہ ان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے پچھلے برسوں میں ملک کو بدترین تشدد اور خونریزی کا سامنا رہا ہے۔
اپنے نمائندے منتخب کرنے کیلیے ملک کے طول و عرض میں پولنگ کا آغاز صبح سات بجے سخت سکیورٹی کے ماحول میں ہوا۔ پولنگ کا یہ عمل سہ پہر چار بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران 22 ملین ووٹرز پارلیمنٹ کے 328 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ آج 9000 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لیے اگلی حکومت بھی مخلوط ہی بننے کا امکان ہے۔ حتی کہ نورالمالکی کی جماعت کیلیے بھی اکثریت حا صل کرنا مشکل ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والے پرتشدد واقعات کی وجہ سے الیکشن کے روز بھی تشدد آمیز کارروائیوں کا خطرہ ہے۔ صرف دو روز قبل جب سکیورٹی اہلکاروں کیلیے پولنگ کا اہتمام کیا گیا تھا پولنگ سٹیشن اور پولنگ سٹاف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سیاسی ریلیاں بھی ان حملوں کی زد میں رہیں۔
انتخابات کیلیے ہونے والی آج کی پولنگ کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی خطرہ ہے۔ نورالماکی کی حکومت پر الزام رہا ہے کہ وہ شیعہ نواز ہونے کی وجہ سے سنی عوام کے ساتھ سخت امتیازی سلوک کرتی رہی ہے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…