موجودہ وزیر اعظم نورالمالکی تیسری مرتبہ پھراقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگرچہ ان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے پچھلے برسوں میں ملک کو بدترین تشدد اور خونریزی کا سامنا رہا ہے۔
اپنے نمائندے منتخب کرنے کیلیے ملک کے طول و عرض میں پولنگ کا آغاز صبح سات بجے سخت سکیورٹی کے ماحول میں ہوا۔ پولنگ کا یہ عمل سہ پہر چار بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران 22 ملین ووٹرز پارلیمنٹ کے 328 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ آج 9000 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لیے اگلی حکومت بھی مخلوط ہی بننے کا امکان ہے۔ حتی کہ نورالمالکی کی جماعت کیلیے بھی اکثریت حا صل کرنا مشکل ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والے پرتشدد واقعات کی وجہ سے الیکشن کے روز بھی تشدد آمیز کارروائیوں کا خطرہ ہے۔ صرف دو روز قبل جب سکیورٹی اہلکاروں کیلیے پولنگ کا اہتمام کیا گیا تھا پولنگ سٹیشن اور پولنگ سٹاف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سیاسی ریلیاں بھی ان حملوں کی زد میں رہیں۔
انتخابات کیلیے ہونے والی آج کی پولنگ کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی خطرہ ہے۔ نورالماکی کی حکومت پر الزام رہا ہے کہ وہ شیعہ نواز ہونے کی وجہ سے سنی عوام کے ساتھ سخت امتیازی سلوک کرتی رہی ہے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید