موجودہ وزیر اعظم نورالمالکی تیسری مرتبہ پھراقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگرچہ ان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے پچھلے برسوں میں ملک کو بدترین تشدد اور خونریزی کا سامنا رہا ہے۔
اپنے نمائندے منتخب کرنے کیلیے ملک کے طول و عرض میں پولنگ کا آغاز صبح سات بجے سخت سکیورٹی کے ماحول میں ہوا۔ پولنگ کا یہ عمل سہ پہر چار بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران 22 ملین ووٹرز پارلیمنٹ کے 328 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ آج 9000 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جماعت واضح اکثریت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لیے اگلی حکومت بھی مخلوط ہی بننے کا امکان ہے۔ حتی کہ نورالمالکی کی جماعت کیلیے بھی اکثریت حا صل کرنا مشکل ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران جاری رہنے والے پرتشدد واقعات کی وجہ سے الیکشن کے روز بھی تشدد آمیز کارروائیوں کا خطرہ ہے۔ صرف دو روز قبل جب سکیورٹی اہلکاروں کیلیے پولنگ کا اہتمام کیا گیا تھا پولنگ سٹیشن اور پولنگ سٹاف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سیاسی ریلیاں بھی ان حملوں کی زد میں رہیں۔
انتخابات کیلیے ہونے والی آج کی پولنگ کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی خطرہ ہے۔ نورالماکی کی حکومت پر الزام رہا ہے کہ وہ شیعہ نواز ہونے کی وجہ سے سنی عوام کے ساتھ سخت امتیازی سلوک کرتی رہی ہے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…